تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 356
تاریخ احمدیت۔جلد 28 356 سال 1972ء آئے۔ان سے کافی دیر تک بات چیت ہوتی رہی۔وہ انگریزی میں بآسانی بات چیت کر لیتے تھے لیکن ان کی زیادہ دلچسپی فارسی میں تھی جس میں انہیں خوب مہارت حاصل تھی۔چنانچہ میں نے ان کی اس مناسبت کی وجہ سے انہیں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فارسی کلام میں سے چند اشعار جو مجھے زبانی یاد تھے سنائے۔اتفاق سے یہا شعار وہ تھے جن میں حضور علیہ السلام نے اسلام، قرآن مجید اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور راہ خدا میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا عزم بیان فرمایا ہے۔کچھ تو شعروں کا مضمون ایسا تھا اور پھر الفاظ کی بناوٹ اور طرز بیان ایسا دلکش تھا کہ وہ بے حد متاثر ہوئے اور جتنا وقت میں یہ اشعار سنا تا رہا وہ ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے۔واقعی حضرت سلطان القلم علیہ السلام کی تحریرات کی برکت اور تاثیر لا جواب ہے۔۔لندن شہر میں یوں تو کئی اسلامی مراکز ہیں لیکن مسجد کی معروف طرز میں صرف ایک ہی مسجد ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری جماعت کی ہے۔مسجدا اپنی شکل وصورت کے لحاظ سے ارد گرد کی دیگر عمارتوں سے ممتاز ہے اور اس کا سبز رنگ کا بلند و بالا گنبد ہر دیکھنے والے کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔بہر حال لوگ کافی تعداد میں مسجد دیکھنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔ان میں بڑی عمر کے مرد، مستورات، نوجوان لڑکے، لڑکیاں، طلبہ وطالبات غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں۔یہ مسجد کو ہر پہلو سے بہت دلچسپی سے دیکھتے ہیں اور بڑے دلچسپ اور عمدہ سوالات کرتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک سکول کا گروپ آیا ہوا تھا۔اس گروپ میں سب بچے ایسے تھے جو جسمانی یا ذہنی طور پر معذور تھے۔بعض تو چلنے پھرنے کے قابل نہ تھے اور سارا وقت پہیوں والی کرسی پر بیٹھے رہے لیکن شروع سے آخر تک ہر بات میں بہت دلچسپی لیتے رہے۔مسجد کے اندر ایک بچے نے سوال کیا کہ اس جگہ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ اس کا نام مسجد فضل ہے۔مسجد خدا کا گھر ہے جہاں اس کے افضال کی بارش ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔میرا یہ فقرہ سن کر کہ This is a place of Divine Blessings اس بچے کے چہرے پر خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی۔شاید یہ اس امید اور تمنا کی جھلک ہو کہ اس برکت والی جگہ پر آنے کی بدولت خدا مجھے صحت و عافیت عطا کرے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ایک اور موقعہ پر کالج کے طلبہ وطالبات کا ایک گروپ مسجد دیکھنے کے لئے آیا ہوا تھا۔انہوں نے