تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 346 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 346

تاریخ احمدیت۔جلد 28 346 سال 1972ء شخصیت اور آپ کی خدمات دینیہ کا تفصیلی تذکرہ کیا۔بعد ازاں محترم جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق نے خطاب کرتے ہوئے محترم باجوہ صاحب کو پر خلوص طریق پر دعاؤں کے ساتھ الوداع کہا۔آخر میں محترم جناب چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ نے حاضرین سے خطاب فرمایا۔آپ نے ان حالات کا ذکر فرمایا جن میں حضور انور نے انہیں اس خدمت کے لئے ارشاد فرمایا تھا۔دعا پر یہ بابرکت تقریب اختتام پذیر ہوئی۔احباب نے الوداعی تقریب کے بعد آپ سے ملاقات کی اور اس موقع پر متعد د تصاویر لی گئیں۔اگلے روز مورخہ ۱/۲۴ پریل ۱۹۷۲ء کو محترم باجوہ صاحب پاکستان واپس تشریف لے جانے کے لئے بارہ بجے دوپہر کے قریب مشن ہاؤس سے روانہ ہوئے۔اس موقع پر بہت سے احباب بطور خاص رخصت لے کر تشریف لائے۔روانگی سے قبل محترم جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق نے اجتماعی دعا کروائی۔بہت سے احباب جماعت ہوائی اڈہ پر بھی تشریف لے گئے جہاں ایک بار پھر دعا کی گئی۔اس طرح محترم جناب چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ کو احباب جماعت کی دعاؤں کے جلو میں نہایت پر خلوص طور پر رخصت کیا گیا“۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا تھا کہ جماعت کی دینی اور علمی ترقی کے لئے فوری طور پر انگلستان کی سب جماعتوں میں سٹڈی سرکل قائم کئے جائیں جن میں اہم دینی اور علمی موضوعات پر گفتگو، تقریر اور تبادلہ خیالات کا موقع مہیا کیا جائے۔اس ارشاد کی تعمیل میں لندن میں فوری طور پر سٹڈی سرکل قائم کیا گیا۔مولانا عطاء المجیب صاحب راشد نائب امام اس کے صدر مقرر ہوئے اور اعلان کیا گیا کہ جو دوست اور خاص طور پر نوجوان اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ فوری طور پر اپنے نام لکھوا دیں۔اس سٹڈی سرکل کی پہلی میٹنگ مورخه ۱/۲۹ پریل بروز ہفتہ سات بجے شام مشن کی لائبریری میں منعقد ہوئی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دورہ مغربی افریقہ کے بعد نہایت مختصر سے عرصہ میں اس کے چھ ممالک میں تعلیمی اور طبی مراکز سر گرم عمل ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں ان ممالک کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا۔جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن نے جماعت احمدیہ کی اس عظیم الشان خدمت سے متعارف کرانے کے لئے اس سال غانا اور گیمبیا کے سفیروں سے ملاقاتیں کیں جو بہت مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔