تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 341 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 341

تاریخ احمدیت۔جلد 28 341 سال 1972ء صاحب، سیکرٹری تبلیغ عبدالرحمن صاحب، مولوی محمد ایوب صاحب ( برادر اصغر مولانا ابوبکر ایوب صاحب سابق انچارج ہالینڈ مشن ) ، مولوی احمد نور الدین صاحب اور مرتو لو صاحب بارایٹ لاء صدر اعلیٰ جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے خطاب فرمایا۔اس جلسہ عام کے بعد حسب سابق اس دفعہ بھی وسط شہر کے ایک ہال میں ۲۶۔۲۷ /اگست کو ایک تبلیغی کا نفرنس بھی منعقد ہوئی۔فاضل مقررین کے نام حسب ذیل ہیں۔صالح الشبيبي صاحب (تصوف)، مولانا محمد صادق صاحب ( معجزات اور اسراء و معراج)، را ڈین احمد انور صاحب (جماعت احمدیہ کی امتیازی خصوصیات) ، مرزا محمد ادریس صاحب (خلافت فی الاسلام ) ،میاں عبدالحی صاحب ( تعلق باللہ ) آخر میں مولا نا محمد صادق صاحب نے اقوال صوفیاء اور تاریخ انبیاء کی روشنی میں بعض حقائق نہایت پر جوش اور پر اثر انداز میں بیان فرمائے۔میاں عبدالحی صاحب مبلغ سلسلہ اس جلسہ کی رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔”ہر روز نماز تہجد اور فجر کی نماز کے بعد درس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔اس میں پہلے روز Tasikmalaya کے نائب مبلغ حسبان صاحب نے اپنی قبول احمدیت کی داستان بڑے جوش سے بیان کی۔یہ پہلے انڈونیشیا کے ایک مشہور عالم کے خاص مریدوں میں شامل تھے۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔اسی طرح جو گجا کی الجامعۃ الحکومیۃ الاسلامیہ کے قریباً فارغ التحصیل عرب نژاد نو جوان علی ابوبکر بسلا مہ اور شمالی سماٹرا کے نوجوان خیر الدین نے بھی اپنی قبول اسلام اور قبول احمدیت کی داستان سنائی۔“ نیز میاں عبدالحی صاحب نے تحریر کیا کہ لجنہ اماء اللہ نے اپنے اجلاس میں اس امر کی تحریک کی کہ مرکز میں ہونے والی جو بلی میں یہاں سے دو نمائندگان جائیں اور ہر جگہ کی لجنہ مالی لحاظ سے امداد کرے۔لجنہ کے اجلاس میں تقریر کرنے کیلئے مکرم جناب رئیس التبلیغ نے مکرم صالح الشبیبی صاحب اور مکرم مولانا احمد نورالدین صاحب کو مقرر کیا جنہوں نے وہاں اہم دینی امور پر مستورات سے خطاب کیا۔49 انڈونیشیا کی مجلس خدام الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کی سالانہ تربیتی کلاس دسمبر ۱۹۷۲ء کے آخری دو ہفتوں میں مانس اور کے احمدی گاؤں میں منعقد ہوئی۔۱۷ دسمبر کی شب کو مولانامحمد صادق صاحب نے افتتاحی خطاب میں خدام و ناصرات کو قیمتی نصائح سے نوازا۔