تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 340 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 340

تاریخ احمدیت۔جلد 28 340 سال 1972ء بیرونی ممالک میں جماعتی مساعی اس سال دنیا بھر کے احمدی مشنوں کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی پیدا ہوئی۔خصوصاً افریقہ کی احمدی جماعتیں ایک نئے عزم اور جوش عمل کے ساتھ مصروف جہادر ہیں جو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے مبارک دورہ افریقہ اور حضور انور کی جاری فرمودہ نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کا اعجاز تھا۔انڈونیشیا تا دنگ مانگو انڈونیشیا میں جماعت کا باقاعدہ قیام جو گجا کرتا ( انڈونیشیا) کے مشرق میں یکصد کلومیٹر کے فاصلہ پر اونچے پہاڑی علاقہ میں ایک جگہ تادنگ مانگو ہے۔اس جگہ قبل ازیں صرف ایک گھرانہ تھا اور کوئی باقاعدہ جماعت نہ تھی۔مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ جو گجا کرتا کو رمضان المبارک سے قبل وہاں جانے کا موقع ملا اور آپ کے قیام کے دوران وہاں بعض بڑی عمر کے طلباء کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔الحمد للہ اب یہاں با قاعدہ جماعت کا قیام عمل میں آگیا ہے۔48 اس سال کی اجتماعی دینی سرگرمیوں میں انڈونیشیا کے احمدی نوجوانوں کا سالانہ اجتماع، جماعت احمدیہ کا سالا نہ تئیسواں جلسہ، انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ کے سالانہ اجلاس، مجلس خدام الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کی سالانہ تربیتی کلاسوں کا انعقا د خاص طور پر قابل ذکر ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کا اجتماع ۲۰ تا ۲۳ اگست ۱۹۷۲ء کو وسطی جاوا کے شہر پورووکر تو (Purwokerto) سے سات آٹھ میل دور پہاڑ کے دامن میں منعقد ہوا جس میں ۱۵۰ کے قریب خدام نے شرکت کی۔نوجوانوں کی اخلاقی و روحانی تربیت اور نگرانی کے فرائض مرزا محمد ادریس صاحب نے انجام دیئے۔شوری میں نعیم احمد صاحب نائب صدر منتخب کئے گئے۔جماعت احمدیہ کا تنیسواں سالانہ جلسہ ۲۵ سے ۲۷ /اگست ۱۹۷۲ء تک پولیس کے شاندار اور وسیع ہوٹل میں منعقد ہوا۔یہ ہوٹل ایک مخلص احمدی دوست بریگیڈیر پولیس جناب احمد سور یا با منیاٹا کی ذاتی کوشش اور نیک شہرت کے باعث حاصل ہوا تھا۔اس جلسہ سے مولا نا محمد صادق صاحب، صالح الشبيبي صاحب، حافظ قدرت اللہ صاحب، میاں عبدالحی صاحب، مولوی محی الدین شاہ صاحب ، شافعی