تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 331
تاریخ احمدیت۔جلد 28 331 سال 1972ء اس تقریب میں شمولیت کے لئے کثیر تعداد میں ناظران، وکلاء صاحبان ، مربیان کرام اور تعلیمی اداروں کے سر براہ موجود تھے۔سنگ بنیادرکھنے کے بعد امیر صاحب مقامی نے دعا کرائی۔اس موقع پر دو بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے اور تشریف لانے والے احباب کی مٹھائی اور مشروبات سے تواضع کی گئی۔جامعہ احمدیہ میں خدا کے گھر کا ہونا نا گزیر ضرورت تھی۔خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ سلسلہ کے ایک مخلص بزرگ با ابو اقبال محمد خان صاحب آف گوجرانوالہ نے اس کی تعمیر کا خرچ اپنے ذمہ لے لیا۔ان دنوں ہوسٹل جامعہ احمدیہ کی تعمیر بھی شروع تھی۔جس کے لئے محمد امجد صاحب پسر ڈاکٹر محمد انور صاحب مرحوم پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ جڑانوالہ نے اپنا وقت بلا معاوضہ وقف کر رکھا تھا۔36 مسجد حسن اقبال سید داؤ د احمد صاحب پر نسپل جامعہ احمد یہ ربوہ کی خاص توجہ اور محنت سے تعمیر ہوئی مگر اس کی تکمیل آپ کی وفات (۲۴/ ۱۲۵ پریل ۱۹۷۳ء) کے بعد ہوئی۔27 حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی قبولیت دعا کا ایک نشان اللہ تعالیٰ اپنے مقدس خلفاء کو خاص طور پر قبولیت دعا کا نشان عطا فرماتا ہے تا کہ اس ذریعہ سے لوگ اللہ تعالیٰ کے حیبی و قیوم اور مستجاب الدعوات ہونے پر ایمان لاتے رہیں اور مومنین اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرتے رہیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ہر خلیفہ کے زمانہ میں قبولیت دعا کے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں نشان ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ایک ایسا ہی نشان مشتے از خروارے پیش ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد اسلم صاحب جاوید کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی قبولیت دعا کے ایک نشان کے طور پر ۱۳ جولائی ۱۹۷۲ء پہلا فرزند عطا فرمایا۔جنوری ۱۹۷۲ ء کو جاوید صاحب نے حضور کی خدمت میں نرینہ اولا د عطا ہونے کے لئے بذریعہ خط دعا کی درخواست کی تھی۔اس کے جواب میں حضور نے از راہ شفقت انہیں بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں فرزند عطا فرمائے گا۔نیز پیدا ہونے والے فرزند کا پہلے ہی سے نام بھی تجویز فرما دیا۔چنانچہ رقم فرمایا کہ جب لڑکا پیدا ہو تو اس کا نام عبدالمومن رکھا جائے۔چنانچہ مولود کا یہی نام رکھا گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔نومولود محترم مولانا ابوالعطاء صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد کا نواسہ اور محترم با بومحمد عالم صاحب کا پوتا ہے۔38 افریقہ میں اسلام کی روز افزوں ترقیات حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے دورہ افریقہ کے بعد مبلغین احمدیت نے اپنی دینی مساعی اور