تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 332
تاریخ احمدیت۔جلد 28 332 سال 1972ء رفاہی کوشش تیز تر کر دی تھیں۔جس کے نتیجہ میں اس سال اسلام کی روز افزوں ترقیات نے عیسائیت کے اونچے حلقوں میں زبر دست سراسیمگی طاری کر دی اور اس کا ذکر خوب کھل کر پریس میں بھی آنے لگا۔چنانچہ روز نامہ جنگ کراچی کے نامہ نگار خصوصی مقیم لندن جناب آصف جیلانی نے افریقہ میں اسلام کی تبلیغ وترویج میں نئی زندگی کے زیر عنوان لکھا:۔لندن ۱۶ جولائی۔افریقہ میں عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے رومن کیتھولک اور دیگر مکتب خیال کے عیسائی ادارے افریقہ میں اسلام قبول کرنے کے نئے رجحان سے سخت پریشان ہیں۔ان عیسائی مذہبی اداروں کا خیال ہے کہ اسلام بتدریج پھیلتا جارہا ہے اور افریقہ کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے قبول عیسائیت میں رکاوٹ بن رہا ہے۔افریقہ میں مجموعی طور پر ۱۴ کروڑ ۵۰لاکھ مسلمان ہیں جبکہ عیسائیوں کی تعداد مجموعی طور پر دس کروڑ ہے اور دس کروڑ سے زائد افریقی ایسے ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں اور جنہیں تبلیغ کی جاسکتی ہے۔سابق بیلیچین کانگو کے شہر زائر اور افریقہ کے دیگر علاقوں میں تبلیغی کام کرنے والے عیسائی مشنریوں نے پوپ پال کو اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ پوپ پال اس سلسلہ میں اہم اقدامات کر رہے ہیں تاکہ عیسائی تبلیغی مہموں کی ناکامی کا ازالہ کیا جا سکے۔اس سلسلہ میں اہم عوامل میں ایک یہ ہے کہ کانگو کے صدر مو بوتو اور زائر میں مقیم عیسائی مشنری کے سربراہ جوزف مالولا کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے جوزف مالولا کو زائر سے روم واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ صدر مو بوتو نے عیسائی مشنریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ افریقی عیسائیوں کے ناموں کے اس حصہ کو ختم کر دیا جائے جس سے عیسائیت کی نشاندہی ہوتی ہے اور ان کی جگہ قبائلی نام اختیار کئے جائیں تا کہ ملک کے قبائل نو آبادیاتی دور کے رجحانات کو فراموش کر سکیں۔چنانچہ خود مو بوتو نے اپنے نام سے جوزف کا عیسائی نام حذف کر کے قبائلی لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔اس کے علاوہ صدر مو بوتو نے عیسائیوں سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ زائر میں کانگو کی برسراقتدار جماعت کی ایک شاخ قائم کی جائے۔یہ شہر برطانوی عیسائی تبلیغی اداروں کا صدر مقام سمجھا جاتا ہے۔ان عیسائی اداروں نے اطلاع دی ہے کہ افریقہ میں عیسائیت کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسلام کی تبلیغ و ترویج میں نئی زندگی پیدا ہو گئی ہے۔خصوصاً گھانا اور نائیجیریا اور مشرقی ساحلی علاقوں میں اسلام کا اثر بڑھ رہا ہے۔یہاں عیسائیوں کو احمدی فرقہ کے تبلیغی اداروں کا زبردست مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔احمدی فرقے کی تبلیغی کارروائیاں