تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 293 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 293

تاریخ احمدیت۔جلد 28 293 سال 1972ء سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۸ دسمبر ۱۹۷۲ء کونماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور دوران خطبہ ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔” ہمارے بزرگ دوست مولوی یعقوب خان صاحب کل لاہور میں وفات پاگئے ہیں انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ان کی بیعت خلافت اولیٰ کی ہے لیکن خلافت اولیٰ کی بیعت کرنے کے باوجود (ویسے تو یہ ایک موٹی بات ہے بچے بھی سمجھ جائیں گے کہ جب ایک خلافت کی بیعت کر لی تو ) پھر خلافت کا انکار دوسری خلافت کے وقت کیسے ہو گیا۔مگر ہو گیا۔بعض لوگ دنیا کے ابتلاء میں پھنس جاتے ہیں۔غرض انہوں نے خلافت اولیٰ میں بیعت کی اور خلافت ثانیہ کا انکار کر دیا اور اس طرح غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔جنہوں نے خلافت کی بیعت نہیں کی۔اور اس گروہ میں شامل نہیں ہوئے جو خدا تعالیٰ کی برکتوں سے اس وقت ساری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔اس انکار پر ایک لمبا عرصہ گذر گیا۔میں سمجھتا ہوں خلافت اولیٰ میں ان سے کوئی ایسی نیکی ہوئی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا انجام بدنہیں ہو گا۔چنانچہ انہوں نے خلافت ثالثہ کی بیعت کر لی اور اس کے بعد انہوں نے ۲۹ دسمبر ۱۹۶۹ء کو وصیت بھی کر دی۔گویا یہ آج سے تین سال پہلے کی بات ہے انہوں نے بیعت بھی وصیت سے کچھ عرصہ شاید ایک دو مہینے پہلے کی تھی اور پوری بشاشت کے ساتھ اور بڑے دھڑلے کے ساتھ بیعت کی۔ان کے ایک بڑے بیٹے تو پہلے سے مبائع تھے۔ان سے چھوٹے بیٹے نہ صرف یہ کہ مبائع نہیں تھے بلکہ بڑا شدید اختلاف رکھنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان پر بھی فضل کیا انہوں نے بھی بیعت کر لی۔پھر ان کی بیوی نے بھی بیعت کر لی۔اس پر مولوی صاحب مرحوم کے پرانے ساتھیوں کو بڑا غصہ آیا اور اپنے اس غصہ کا اظہار پیغام صلح میں بھی کرتے رہے اور مولوی صاحب بڑے پیار کے ساتھ ان کا جواب بھی دیتے رہے اور ان کو یہ نصیحت بھی کرتے رہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشن کامیاب کرنے کے لئے جو ہم اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے اس میں تمہارا بھی کوئی حصہ ہو تو پھر تم بھی خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔