تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 294
تاریخ احمدیت۔جلد 28 294 سال 1972ء پس خلافت سے دوری بھی رہی اور بڑے لمبے عرصے تک رہی۔پھر ایک وقت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور وہ شمع خلافت کے پروانہ بن گئے اور اس طرح ان کا اچھا انجام ہوا۔خیر کے ساتھ ان کا خاتمہ ہوا۔اللہ تعالیٰ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے اور بہت پیار کرے اور اپنے فدائی اور محبوب بندوں کے ساتھ ان کو بھی شامل کرے۔جو لوگ ان کی مبائع ہونے کی حیثیت میں تین سالہ زندگی میں غصے کا اظہار کرتے رہے تھے۔وفات کے بعد ان کو بھی خیال پیدا ہوا اور یہ تو قابل اعتراض بات بھی نہیں۔خدا کرے کہ یہ پیار بڑھتے بڑھتے مرحوم کی اس خواہش کو بھی پورا کر دے اور وہ بھی خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں، بہر حال لاہور میں ان کے کچھ عزیزوں نے کہا کہ وصیت کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ لاہور ہی میں ان کو دفنا دیا جائے۔اگر چہ ان کی وصیت تھی مگر یہ تو عزیزوں کا کام تھا کہ کسی کا جنازہ زبر دستی تو دوسری جگہ نہیں لے جایا جاسکتا اور نہ لے جانا چاہیے۔چنانچہ ان کا جنازہ ہسپتال سے ہماری مسجد دار الذکر میں لے جایا گیا اور غالباً وہیں ان کی تجہیز و تکفین ہوئی اور پھر مبائعین نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ان کا جنازہ عزیزوں کو دکھانے کے لئے ان کے گھر لے گئے وہاں انہوں نے کہا کہ ہم تو نہیں چاہتے کہ ان کا جنازہ ربوہ لے جایا جائے۔چنانچہ انہوں نے مجھے فون پر اطلاع دی میں نے کہا اگر ان کے عزیز نہیں چاہتے تو پھر اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو مانتا فن کر دیا جائے۔وقتی طور پر ایسے جذبات ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے اور وہ ان کا جنازہ یہاں لے آئیں۔لیکن ان کی جو روح ہے ان کے اوپر تو عزیزوں کا اختیار نہیں ہے روح کو خدا تعالیٰ نے جہاں پہنچانا تھا وہاں پہنچ گئی۔اللہ تعالیٰ سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہماری دعائیں ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو فدائی جماعت جن سے خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم راضی اور جو اپنے رب پر راضی ہیں اور جو اس گروہ میں ہیں جو ہم سے آگے جاچکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ان میں شامل کرے اور