تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 292 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 292

تاریخ احمدیت۔جلد 28 292 سال 1972ء انگریزی زبان میں تقریر کرنا ثابت ہے۔ابتداء جوانی میں بعض حوادث کا شکار ہو کر ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے۔اور ان کی حالت مجذوبوں جیسی ہو گئی تھی۔احمد یہ بازار میں خاموش کسی نہ کسی کو نہ میں کھڑے رہتے۔نہ کسی کو دکھ دیتے اور نہ کسی سے کچھ مانگتے۔جس وقت بھوک محسوس ہوتی گھر جا کر کھانا کھا آتے۔اگر کوئی چائے کی پیش کش کرتا تو قبول کر لیتے تھے۔قادیان میں بطور درویش جن افراد کو ٹھہرانا تھا۔ان کا اا نومبر ۱۹۴۷ء کو انٹر ویولیا گیا تھا۔اور ان کو کارڈ ایشو کر دیئے گئے تھے۔۱۶ نومبر کو جب تمام جانے والے افرا درخصت ہو گئے تو معلوم ہوا کہ چند افراد ایسے بھی یہاں مقیم رہ گئے ہیں جنہیں با قاعدہ طور پر یہاں ٹھہرنے کے لئے انتخاب نہیں کیا گیا۔بلکہ ان کا قیام محض اتفاقی ہے۔ان میں سے ایک عبداللہ خان بھی تھے جو اپنی مجذوبیت کے باعث کسی کو نہ میں پڑے رہے۔اور جانے والے قافلہ میں شریک نہیں ہوئے۔چند افراد اور بھی ایسے ہی تھے۔ان کو بھی ۱۳۱۳ درویشوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔اور یوں ۳۱۳ کی تعداد بڑھ کر ۳۲۶ ہو گئی۔محمد عبداللہ خان صاحب کے دماغ پر حملہ ہوا تو وہ ان ایام میں اپنے آپ کو عبد اللہ خان کہلانے کی بجائے میجر عبداللہ کہلانا پسند کرنے لگے تھے۔اور آخر میں یہ ان کی پہچان بن گئی۔اور وہ میجر عبداللہ کے نام سے ہی جانے جانے لگے۔درویشی کا ۲۵ سال کا عرصہ اس طرح خاموشی سے گزار دیا۔چند روز کی علالت کے بعد ۶ دسمبر ۱۹۷۲ء کو اپنے مولا حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔چونکہ موصی نہیں تھے۔بچہ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔مولانا محمد یعقوب خان صاحب وفات : ۷ دسمبر ۱۹۷۲ء 182۔مولانا محمد یعقوب خان صاحب سابق ایڈیٹر لائٹ“ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب مردان کے ذریعہ دسمبر ۱۹۱۲ء میں دامن احمدیت سے وابستہ ہوئے۔183 بعد ازاں خلافت ثانیہ کے قیام پر غیر مبائعین میں شامل ہو گئے اور بالآخر اپنی فطری رشد و سعادت کی بدولت ۱۹۲۹ء میں نہایت عقیدت سے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کی بیعت کا شرف حاصل کیا اور پھر اسی سال سالانہ جلسہ میں شامل ہو کر ۲۹ دسمبر ۱۹۶۹ء کو وصیت کرنے کی سعادت پائی۔آپ کے دسمبر ۱۹۷۲ء کو انتقال فرما گئے۔184 آپ مولوی محمد علی صاحب ( سابق امیر غیر مبائعین ) کے ہم زلف تھے۔