تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 270
تاریخ احمدیت۔جلد 28 270 سال 1972ء خلیفہ اسیح الثانی کے خاص ارشاد کے ذریعہ مجھے اس کتاب کا جواب لکھنے کا حکم ہوا اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں نے تفہیمات ربانیہ نامی تنظیم کتاب تصنیف کی۔اس کتاب کے دیباچہ میں میں نے ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کتاب کی تدوین میں دیگر کتب کے علاوہ محترم مولانا تاج الدین صاحب کے مسودہ سے بھی استفادہ کیا ہے اللہ تعالیٰ برادرم مولانا صاحب مرحوم کو جزائے خیر بخشے۔آمین اللہ تعالیٰ نے مولانا مرحوم کو بات کی تہ تک پہنچنے کا بہت ملکہ عطا فر ما یا تھا۔آپ عمر کے آخری حصہ میں خلافت ثانیہ میں سالہا سال تک قضاء کے عہدے پر کام کرتے رہے اور ناظم دار القضاء بھی رہے۔آپ کے بہت سے فیصلہ جات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بہت محنت سے مرتب کئے گئے ہیں۔حضرت مولانا صاحب مرحوم عقائد اور ایمان کے بارے میں پوری تحقیق کے بعد بصیرت سے قائم تھے۔مخالفین کا لٹریچر پڑھ کر اس کی تردید کرنے کا شوق رکھتے تھے۔عیسائیت اور آریہ مت نیز غیر مبائعین کے خیالات کے بارے میں بھی انہیں کافی عبور حاصل تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی دینی معاملات میں مشورہ میں آپ کو بھی شامل فرمایا کرتے تھے۔153 علمی خدمات: مولانا تاج الدین صاحب نے رسالہ تحیذ الاذہان ، رسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو اور الفضل میں بہت سے مضامین سپرد قلم کر کے علمی جہاد میں حصہ لیا۔آپ کے بلند پایہ مضامین کی کچھ تفصیل درج ذیل کی جاتی ہے۔( تشخيذ الا ذبان ) معصومیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید (جولائی ۱۹۲۰ء)۔لو كان بعد نبى لكان عمر میں بعدی سے کیا مراد ہے ( ستمبر ۱۹۲۰ء)۔(ریویو آف ریلیجنز ) حدیث لا نبی بعدی میں بعدی سے کیا مراد ہے ( جون ۱۹۲۰ء)۔قرآن مجید میں کوئی اختلاف نہیں ( ستمبر ۱۹۳۰ء)۔الحجۃ البیضا في المعراج والاسراء ( دسمبر ۱۹۳۰ء)۔توضیح المقال في التصوير والمقال ( مارچ ۱۹۳۱ء)۔القول الحسن في مرسل الحسن ( ستمبر ۱۹۳۵ء)۔صداقت خیر البشر ( مئی ۱۹۳۶ء)۔صداقت خیر البشر ( جون ۱۹۳۶ء)۔البيان الوفی فی معنی التوفى ( ستمبر و اکتوبر ۱۹۳۶ء)۔ارشاد اللبيب الى كسر الصليب ( مئی ۱۹۳۸ء)۔شہادۃ القرآن مصنفہ میر سیالکوٹی صاحب کا جواب (جولائی ، تمبر ، نومبر ۱۹۳۸ء)۔کتب اہل کتاب اور ان کی روایات ( مارچ ۱۹۴۶ء )۔شہادۃ القرآن مصنفہ میر سیالکوٹی کا جواب ( مئی ۱۹۴۶ ء۔وجولائی