تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 271 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 271

تاریخ احمدیت۔جلد 28 271 سال 1972ء ۱۹۴۶ء) (الفضل) عنوان۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب سے استفسار (۳ جنوری ۱۹۳۰ ء صفحه ۱۳)۔احسن التحرير فى التمثال والتصویر۔تصویر کی حلت و حرمت (۲۸ جنوری ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۰-۱۳ )۔کیا حدیث خسوف و کسوف ضعیف ہے (۱/۱۷ پریل ۱۹۳۲ ، صفحہ ۵۔الفضل ۱۵ مئی ۱۹۳۲ء صفحہ ۶)۔ختم نبوت کے بارے میں احراریوں کا گمراہانہ رویہ۔آیات قرآنی کی رکیک تاویلات کی بیجا کوشش (۱۹ جون ۱۹۳۵ ء صفحہ ۵) بہشتی مقبرہ میں داخل ہونے والوں کا مقام (۲۲ مارچ ۱۹۶۱ء صفحہ ۴)۔صوبیدار میجر عبدالقادر صاحب ( وفات ۵ جولائی ۱۹۷۲ء) آپ نے اپنی ابتدائی زندگی میں بہت سے ممالک کی سیر کی تھی اور آپ ایک روشن خیال اور عالی دماغ انسان تھے۔فوج سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد آپ نے حضرت ملک برکت علی صاحب خالد احمدیت حضرت ملک عبدالرحمن صاحب خادم کے والد اور مہر الدین صاحب پٹواری سے سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر مطالعہ کیا اور فروری ۱۹۴۱ء میں داخلِ احمدیت ہوئے۔آپ اپنے گاؤں اور خاندان میں سب سے پہلے احمدی تھے جس کے بعد آپ نے دیوانہ وار تبلیغ شروع کر دی اور آپ کے ذریعہ کئی سعید روحیں احمدیت میں داخل ہوئیں۔۱۹۴۷ء میں احمدی مہاجرین کو قادر آباد میں آباد کرنے میں آپ نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔حتی کہ ان کو رہنے کے لئے اپنا گھر پیش کیا۔خوراک اور بستروں کا انتظام کیا اور کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے دی۔آپ ہی کی مساعی سے قادر آباد میں ایک مخلص جماعت کا قیام عمل میں آیا۔۱۶ را کتوبر ۱۹۵۷ء کو آپ نے سخت مخالفت کے باوجود گاؤں میں احمدیہ مسجد کی بنیاد رکھی اور تکمیل کے بعد اسے صدر انجمن احمدیہ کے نام رجسٹرڈ کرادیا۔مسجد کےساتھ آپ نے افادہ عام کیلئے ایک خوبصورت لائبریری بھی قائم فرمائی۔جس سے احمدی اور غیر احمدی دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں۔آپ کی زندگی بہت سادہ تھی لیکن ہر بات میں نفاست جھلکتی تھی۔بیعت سے پہلے آپ مذہب سے دور تھے مگر احمدی ہونے کے بعد آپ کی کایا پلٹ گئی۔گفتگو دلنشین انداز میں فرماتے۔تہجد گزار تھے۔نماز اول وقت پر ادا کرتے اور چندہ با قاعدگی سے دیتے تھے۔خوش خلقی اور مہمان نوازی آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔آپ پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ قادر آباد ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی رہے۔154