تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 269 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 269

تاریخ احمدیت۔جلد 28 269 سال 1972ء کثرت مطالعہ کے سلسلہ میں مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہوٹل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جناب نعمت اللہ خان صاحب یو پی کے رہنے والے ایک بزرگ تھے۔ایک دن میں کتاب ہاتھ میں لئے بہشتی مقبرہ کے باغ کی طرف پڑھنے کے لئے جارہا تھا۔جناب نعمت اللہ خان صاحب نے روک کر فرمایا کہ مجھے تمہیں کثرت سے پڑھتے ہوئے دیکھ کر ترس آتا ہے اور میں تمہارے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ تمہیں ترقی دے۔آمین۔میں ان کی بات سن کر ان کی دعا کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے باغ کی طرف چلا گیا۔اس زمانہ میں طلبہ میں زیادہ سے زیادہ مطالعہ کا بھی مقابلہ ہوا کرتا تھا۔بالخصوص ہماری جماعت کے طلبہ اس میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں کوشاں رہتے تھے۔محترم مولانا تاج الدین صاحب مرحوم بھی انہی محنتی طلبہ میں سے تھے۔ایک دفعہ رات کو دیر تک پڑھتے رہنے کا مقابلہ ہو گیا ان دنوں مٹی کے تیل کے چھوٹے لیمپ یا سرسوں کے تیل کے دئے ہوا کرتے تھے۔ہم طلبہ دو کمروں میں تھے۔کمرہ نمبر ا کے طلبہ چاہیں کہ کمرہ نمبر ۲ کے طالب علم پہلے سو جائیں اور دوسروں کی خواہش تھی کہ کمرہ نمبرا کے طالب علم پہلے پڑھنا ختم کر دیں۔ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور اپنے اپنے مطالعہ میں مگن رہے یہاں تک کہ صبح کی نماز کی اذان ہوگئی۔میں نے یہ مثال اس لئے ذکر کی ہے کہ قارئین پرانے طلبہ کے شغف اور محنت کے انداز کو سمجھ سکیں اور نئے طلبہ محنت میں مزید ترقی کریں۔محترم مولانا تاج الدین صاحب کے بہت سے مقالات اور شذرے اس زمانہ کے تشخیذ الا ذہان اور ریویو آف ریلیجنز میں شائع شدہ موجود ہیں۔تقریر کی مشق کی کمی کے باعث محترم مولانا تاج الدین صاحب نے تبلیغی لائن کی بجائے تدریسی شعبہ کو اختیار کیا۔ہم نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل ایک ساتھ پاس کیا تھا۔ہم سات طالب علموں نے قادیان سے امتحان دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم سب کامیاب ہو گئے تھے۔مولوی فاضل کے بعد میں نے مبلغین کلاس میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کے پاس پڑھنا شروع کیا اور محترم مولانا تاج الدین صاحب مدرس مقرر ہو گئے۔قادیان کے ہائی سکول اور گھٹیالیاں کے ہائی سکول میں کافی عرصہ تک پڑھاتے رہے گویا اس وقت ہماری خدمتِ سلسلہ کی لائن مختلف ہو گئی تاہم باہم انس و موڈت برقرار رہی۔پٹیالہ کے منشی محمد یعقوب صاحب نے عشرہ کاملہ نامی کتاب لکھی۔محترم مولانا تاج الدین صاحب نے اپنے طور پر اس کے جواب کے لئے نوٹ تیار کئے۔کچھ مسودہ بھی لکھا۔آخر حضرت