تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 268
تاریخ احمدیت۔جلد 28 268 سال 1972ء طلباء کی نفسیات اور رجحانات کو بہت جلد پہچان لیتے تھے۔کمزور طالب علموں کا خاص خیال رکھتے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کی اخلاقی حالت کا بھی آپ خیال رکھتے۔بہت ہی دیندار اور سنجیدہ مزاج تھے۔اپنے ہی کام سے غرض تھی۔اس لئے آپ طلباء میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔جو سبق انہوں نے پڑھانا ہوتا اس کی باقاعدہ تیاری کرتے اور نوٹس لکھ کر لاتے تھے۔ایک استاد کی حیثیت سے وہ بہت ہی کامیاب اور ہر دلعزیز تھے ان کے شاگردوں کا سلسلہ بہت ہی وسیع ہے۔اپنے شاگردوں سے بڑی تواضع اور مسکراہٹ سے ملتے“۔151 ۲۸ مارچ ۱۹۳۶ء سے ۸ فروری ۱۹۴۷ء تک آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے عربی ٹیچر رہے۔ازاں بعد آپ ۹ فروری ۱۹۴۷ء کو ناظم دارالقضاء ایسے اہم عہدے پر فائز ہوئے۔اسی دوران ۱۰ /اکتوبر ۱۹۶۲ء کو آپ ریٹائر ہوئے اور اسی تاریخ سے دوبارہ اسی منصب پر فائز کئے گئے۔ازاں بعد ۵ فروری ۱۹۶۹ء کو انچارج شعبہ رشتہ ناطہ مقرر ہوئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ تک آپ کو سلسلہ احمدیہ کی بے لوث اور نہایت قابل قدر خدمات انجام دینے کی توفیق بخشی۔52 مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے آپ کی وفات پر محترم جناب مولانا تاج الدین صاحب کا ذکر خیر کے زیر عنوان لکھا:۔152 مدرسہ احمدیہ قادیان میں محترم مولانا تاج الدین صاحب لائلپوری میرے کلاس فیلو تھے۔مدرسہ کی پہلی جماعت سے مولوی فاضل پاس کرنے تک ہم ایک ساتھ پڑھتے رہے۔انسان کی فطرت میں یہ امر داخل ہے کہ وہ پاس رہنے والوں سے مانوس ہو جاتا ہے بلکہ تھوڑا عرصہ پاس بیٹھنے سے بھی باہم انس و محبت پیدا ہو جاتی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سفر میں چند گھنٹے کی معیت پائیدار تعلقات کی بنیاد بن جاتی ہے۔کلاس فیلوز تو با ہم خاص موانست رکھتے ہیں۔محترم مولانا تاج الدین صاحب مرحوم کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔اخبارات اور رسائل بھی پڑھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کے دیگر لٹریچر کے مطالعہ کی انہیں دھن تھی۔میں کہہ سکتا ہوں کہ اس زمانہ کے قریباً سب طلباء میں مطالعہ کتب کا بہت شوق تھا۔بریکار وقت ضائع کرنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔پھر یہ بھی شوق تھا کہ سلسلہ کی کتب خود خرید کر پڑھیں اور اپنی اپنی لائبریریاں بنائیں۔لائبریری بنانے میں طلبہ کا باہم مقابلہ ہوتا تھا کہ کس کے پاس زیادہ اور نادر کتب ہیں۔