تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 216
تاریخ احمدیت۔جلد 28 216 سال 1972ء دے دیں اگر وہ اسلام کی صداقت کا اقرار کرتے ہوئے اپنی غلطی کے اعتراف کے ساتھ اس کمزوری کو آہستہ آہستہ چھوڑنا چاہے تو اس سے درشتی نہ کریں، خدا کی بادشاہت کے دروازوں کو تنگ نہ کریں لیکن عقاید صحیحہ کے اظہار سے کبھی نہ جھجکیں۔جوحق ہوا سے لوگوں تک ضرور پہنچائیں اور کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اگر آپ حق بتائیں گے تو لوگ نہیں مانیں گے۔اگر لوگ نہ مانیں تو نہ مانیں۔لوگوں کو ایماندار بنانے کے لئے آپ خود بے ایمان کیوں ہوں؟ کیسا احمق ہے وہ انسان جو ایک زہر کھانے والے انسان کو بچانے کے خیال سے خود زہر کھا لے۔سب سے اول انسان پر اپنے نفس کا حق ہے پس اگر لوگ صداقت کو سن کو قبول نہ کریں تو آپ نفس کے دھوکہ میں نہ آئیں کہ آؤ میں قرآن کریم کو ان کے مطلب کے مطابق بنا کر بتاؤں۔ایسے مسلمانوں کا اسلام محتاج نہیں۔یہ تو مسیحیت کی فتح ہوگی نہ کہ اسلام کی۔جس نقطہ پر آپ کو اسلام کھڑا کرتا ہے اس سے ایک قدم آگے پیچھے نہ ہوں اور پھر دیکھیں کہ فوج در فوج لوگ آپ کے ساتھ ملیں گے۔وہ شخص جو دوسرے کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے حق چھوڑتا ہے دشمن بھی اصل واقعہ کی اطلاع پانے پر اس سے نفرت کرتا ہے۔کھانے پینے پہنے میں اسراف اور تکلف سے کام نہ لیں بیشک خلاف دستور بات دیکھ کر لوگ گھبراتے ہیں لیکن جب ان کو حقیقت معلوم ہو اور وہ سمجھیں کہ یہ سب اتقا کی وجہ سے ہے نہ کہ غفلت کی وجہ سے تو ان کے دل میں محبت اور عزت پیدا ہو جاتی ہے۔ایسا جانور جو گردن پر تلوار مار کر مارا گیا ہو یا جو دم گھونٹ کر مارا گیا ہوکھانا جائز نہیں۔قرآن کریم منع کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب ولایت جانے والوں نے پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔پس اسے استعمال نہ کریں۔ہاں اگر یہودی یا عیسائی گلے کی طرف سے ذبح کریں تو وہ بہر حال جائز ہے۔خواہ تکبیر سے کریں یا نہ کریں آپ بسم اللہ کہہ کر اسے کھالیں۔یہودی ذبح کرنے میں نہایت محتاط ہیں ان کے گوشت کو بیشک کھائیں لیکن مسیحی آجکل جھٹکا کر کے یا دم کھینچ کر مارتے ہیں اس لئے بغیر تسلی ان کا گوشت نہ کھائیں۔ان کا پکا ہوا کھانا جائز ہے مچھلی کا گوشت جائز ہے۔شکار کا جو بندوق سے ہو گوشت جائز ہے۔کسی مسیحی کے ساتھ ایک