تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد 28 215 سال 1972ء اسلام کو اس نے زیر کیا ہے وہ حقیقی اسلام نہ تھا بلکہ اس کا ایک مجسمہ تھا اور اس میں کیا شک ہے کہ رستم کے مجسمہ کو بھی ایک بچہ دھکیل سکتا ہے۔آپ حقیقی اسلام کے حربہ سے ان پر حملہ آور ہوں وہ خود بخود بھاگنے لگے گا۔یورپ اس وقت مادیات میں گھرا ہوا ہے۔دنیاوی علوم کا خزانہ ہے۔سائنس کا دلدادہ ہے۔اسے گھمنڈ ہے کہ جو اس کا خیال ہے وہی تہذیب ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے بد تہذیبی ہے وحشت ہے۔اس کے علم کو دیکھ کر لوگ اس کے اس دعوی سے ڈر جاتے ہیں اور اس کے رعب میں آجاتے ہیں حالانکہ یورپ کے علوم اس علم کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو قرآن کریم میں ہے۔اس کے علوم روزانہ بدلنے والے ہیں اور قرآن کریم کی پیش کردہ صداقتیں نہ بدلنے والی صداقتیں ہیں۔پس ایک مسلم جو قرآن پر ایمان رکھتا ہو۔ایک سیکنڈ کے لئے بھی ان کے رعب میں نہیں آسکتا اور جب وہ قرآن کریم کی عینک لگا کر ان کی تہذیب کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ تہذیب در حقیقت بد تہذیبی نظر آتی ہے اور چمکنے والے موتی سیپ کی ہڈیوں سے زیادہ قیمتی ثابت نہیں ہوتے۔پس اس بات کو خوب یا درکھیں اور یورپ کے علوم سے گھبرائیں نہیں۔جب ان کی عظمت دل پر اثر کرنے لگے تو قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ کریں۔ان میں آپ کو وہ علوم ملیں گے کہ وہ اثر جاتا رہے گا۔آپ اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ یورپ کو فتح کرنے جاتے ہیں نہ کہ مفتوح ہونے۔اس کے دعوؤں سے ڈریں نہیں کہ ان کے دعوؤں کے نیچے کوئی دلیل پوشیدہ نہیں۔یورپ کی ہوا کے آگے نہ گریں بلکہ اہلِ یورپ کو اسلامی تہذیب کی طرف لانے کی کوشش کریں۔مگر یا درکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے بشروا ولا تنفروا یعنی لوگوں کو بشارت دینا ڈرانا نہیں۔ہر ایک بات نرمی سے ہونی چاہیے۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ صداقت کو چھپائیں۔اگر آپ ایسا کریں تو یہ اپنے کام کو تباہ کرنے کے برابر ہو گا۔حق کے اظہار سے کبھی نہ ڈریں۔میرا اس سے یہ مطلب ہے کہ یورپ بعض کمزوریوں میں مبتلا ہے اگر عقائد صحیحہ کو مان کر کوئی شخص اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے لیکن بعض عادتوں کو چھوڑ نہیں سکتا تو یہ نہیں کہ اسے دھکا