تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 217
تاریخ احمدیت۔جلد 28 217 سال 1972ء ہی برتن میں کھانا پڑے تب بھی جائز ہے۔انسان نا پاک نہیں۔ہاں ہر ایک ناپاک چیز سے ناپاک ہو جاتا ہے۔عورتوں کو ہاتھ لگانا منع ہے۔احسن طریق سے پہلے لوگوں کو بتادیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب ایک یوروپین عورت ملنے آئی تو آپ نے اسے یہی بات کہلا بھیجی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عورتوں کا ہاتھ پکڑ کر بیعت لینے کا سوال ہوا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔یہ ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اس میں عورتوں کی ہتک نہیں کیونکہ جس طرح مرد کے لئے عورت کو ہاتھ لگانا منع ہے اسی طرح عورت کے لئے مرد کو ہاتھ لگانا منع ہے۔پس اگر ایک عورت کی ہتک ہے تو دوسرے کی بھی ہتک ہے لیکن یہ ہتک نہیں بلکہ اسلام گناہ کو دور کرنے کے لئے اس کے ذرائع کو دور کرتا ہے۔یہ نفس کی چوکیاں ہیں جہاں سے اسے حملہ آور دشمن کا پتہ لگ جاتا ہے۔ہمیشہ کلام نرم کریں اور بات ٹھہر ٹھہر کر کریں۔جلدی سے جواب نہ دیں اور ٹالنے کی کوشش نہ کریں۔اخلاص سے سمجھا ئیں اور محبت سے کلام کریں۔اگر دشمن سختی بھی کرے تو نرمی سے پیش آئیں۔ہر ایک انسان کی خواہ کسی مذہب کا ہو خیر خواہی کریں حتی کہ اسے معلوم ہو کہ اسلام کیسا پاک مذہب ہے۔جو لوگ آپ کے ذریعہ سے ہدایت پائیں (انشاء اللہ) ان کی خبر رکھیں اور جس طرح گڈریا اپنے گلہ کی پاسبانی کرتا ہے ان کی پاسبانی کریں۔ان کی دینی یا دنیاوی مشکلات میں مدد کریں اور ہر ایک تکلیف میں برادرانہ محبت سے شریک ہوں۔ان کے ایمان کی ترقی کے لئے دعا کریں۔انگریزی زبان سیکھنے کی طرف خاص طور پر توجہ کریں اور چوہدری ( ظفر اللہ ) صاحب کے کہنے کے مطابق عمل کریں۔وہ آپ کے امیر ہوں گے جب تک وہاں ہیں۔ان کی تمام باتوں کو قبول کریں۔جہاں تک اسلام آپ کو اجازت دیتا ہے۔محبت سے ان کا ساتھ دیں اور ان کے راستہ میں روک نہ ثابت ہوں بلکہ ان کا ہاتھ بٹائیں۔تحریر کا کام آپ کریں تا ان کی آنکھوں کو آرام ملے۔آپ دونوں کی محبت کو دیکھ کر وہاں کے لوگ حیران ہوں۔