تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 203 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 203

تاریخ احمدیت۔جلد 28 203 سال 1972ء کے متعلق میرے حافظہ میں یہ بات موجود ہے کہ پہلی دفعہ میں نے وہاں سنی تقریباً جنوری یا فروری ۱۹۰۵ء میں مجھے کرنال سے باہر ایک گاؤں میں پیمائش کا کام سیکھنے کے لئے بھیج دیا گیا۔میں وہاں اکیلا تھا ( یعنی کوئی ملنے جلنے والا اور ساتھی نہ تھا ایک رات عشاء کی نماز کے بعد حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مختصر سوانح عمری جو کسی برہمو سما جی نے لکھی تھی میں پڑھ رہا تھا۔جب اس واقعہ پر پہنچا کہ طائف والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سلوک کیا تو میرے دل میں سخت درد اور قلق پیدا ہوا اور زار و زار رونے لگ گیا اور میرے دل میں اس وقت جن خیالات و احساسات کا ہجوم تھا کہ آج اس زمانہ میں کروڑوں انسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اپنے جان و مال اور ہر ایک چیز کو قربان کرنا اپنی زندگی کا مقصد یقین کرتے ہیں لیکن اپنے وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نور کو بھی لوگ شناخت نہ کر سکے۔تو اے میرے مولا اگر مرزا صاحب تیری طرف سے ہیں تو تو مجھے ان کی شناخت سے محروم نہ رکھیو۔میں ایک جاہل، بے علم اور نادان انسان ہوں۔اپنی حکمت، تدبیر تحقیق سے ان کی شناخت سے بالکل قاصر ہوں۔اگر مرزا صاحب بچے ہیں اور تیری طرف سے ہیں تو تو مجھے اپنے فضل و کرم سے ان کی شناخت کا نور عطا فرما اور ایسا نہ ہو کہ میں اس فضل سے محروم رہ جاؤں اور میں نہایت مضطرب حالت میں ہی روتے روتے سو گیا۔خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کا آپس میں مقابلہ ہے اور حضرت صاحب پیر صاحب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ ” پیر صاحب اس قیل و قال سے کچھ فائدہ نہیں بہتر یہ ہے کہ دواند ھے آپ انتخاب کر لیں اور دواند ھے میں انتخاب کر لیتا ہوں پھر ہم اپنے اپنے اندھوں کے لئے دعا کریں۔جس کے اندھوں کو اللہ تعالیٰ نے بینائی دے دی وہی سچا ہے اور منجانب اللہ ہے۔چنانچہ جو دواند ھے حضرت صاحب کے حصے میں آئے ان میں سے ایک میں ہوں۔مجھے حضرت صاحب نے بازو سے پکڑ کر حضرت قبلہ مولوی صاحب ( حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل) کے حوالہ کر دیا۔آپ نے ایک دوائی کھلائی جو برف کی مانند صاف و شفاف تھی اور جس کا اثر میں دو طرح پر بیان کر سکتا ہوں۔یا تو وہ ایسی جیسی کہ ایک برف کی چھوٹی سی ڈلی ہو جو نہایت شدید پیاس کی حالت میں نگلی جائے اور اس وقت نگلنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ منہ میں یا حلق میں یا حلق سے نیچے اتر رہی ہے گویا جہاں جہاں سے وہ جاتی ہے وہاں ایک اثر محسوس ہوتا ہے۔اس طرح وہ دوائی جہاں جہاں سے گذری میں نے اپنے اندر اس کا اثر محسوس کیا۔یا یہ کہ وہ ایک ہیرے کی کنی کی