تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 202
تاریخ احمدیت۔جلد 28 202 سال 1972ء کی بیعت تقریباً ۱۹۰۰ - ۱۸۹۹ء کی تھی۔مگر حضور علیہ السلام کی زیارت سے مشرف نہ ہو سکے تھے۔مرحوم خلافت کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے تھے۔نیک طبیعت مخلص احمدی اور خدمت خلق کرنے والے بزرگ تھے۔آپ جماعت احمدیہ مجوکہ کے صدر بھی رہے۔آپ کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ایک بیٹے ملک ظل محمد صاحب بھی لمبا عرصہ جماعت احمدیہ مجوکہ کے صدرر ہے۔33 حضرت را جہ علی محمد صاحب گجرات ولادت : ۲۶ دسمبر ۱۸۸۵ء34 تحریری بیعت : ۱۹۰۵ ء 35 وفات : ۱۴ / ۱۵ ستمبر ۱۹۷۲ء36 موضع کوٹ راجگان چھمبی تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔آپ کا خاندان اس علاقہ میں نہایت معزز حیثیت سے روشناس ہے۔۱۹۰۵ء میں ایک رؤیا کی بناء پر خط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ ہی کے قلم سے آپ کے حالات قبول احمدیت درج ذیل کئے جاتے ہیں۔فرماتے ہیں:۔میں اس عَلِیمَ بِذَاتِ الصُّدُورِ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا ایک بڑی لعنت ہے جو اس کے محبت کے دامن سے انسان کو دور کر دیتی ہے کہ یہ میرا بیان کسی قسم کی نفسانی خواہش یا دنیوی سود و بہبود کے محرکات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ میں سلسلہ حقہ کی ایک امانت خیال کرتے ہوئے اس کو ادا کر رہا ہوں۔میرا نام علی محمد ہے۔میرے والد کا نام شاہ ولی خان ہے۔میں اس وقت اکسٹرا اسسٹنٹ مہتم بندو بست لاہور ہوں۔میرا اصلی وطن ضلع چھمبی تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم ہے۔میری قوم راجپوت جنجوعہ ہے۔جو علاقہ میں اس وقت یہی ایک نہایت معزز قوم خیال کی جاتی ہے اور جو کسی وقت میں سکھوں کے عہد سے پہلے وہاں کی حکمران قوم تھی۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سب سے پہلی بار میرے کان میں احمدیت کے متعلق جو آواز پہنچی اس کی تقریب اس طرح پیدا ہوئی کہ میں جب بالکل بچہ تھا تو اپنے ماموں کے ساتھ دریا میں جہلم شہر کے قریب کشتی پر سوار تھا۔غالباً اس دن سورج گرہن لگا تھا اور وہ پیشگوئی کہ مہدی کے زمانہ میں چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں لگیں گے پوری ہو رہی ہے کہ اس وقت میرے ماموں صاحب نے اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ برسبیل تذکرہ ذکر کیا کہ مرزا صاحب اس واقعہ کو اپنی صداقت میں پرزور پیش کر رہے ہیں۔”مرزا صاحب“ کے الفاظ