تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 204 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 204

تاریخ احمدیت۔جلد 28 204 سال 1972ء طرح کہ جو شیشہ کے ٹکڑے پر سے کھینچی جائے تو وہ لکیر ڈال دیتی ہے ویسے ہی میں اپنے سینہ میں ایک لکیر پاتا تھا۔جب صبح کو میں اٹھا تو اپنے سینہ میں ایک لکیر محسوس کرتا تھا۔خواب میں اُس دوائی کے کھا چکنے کے بعد حضرت مولوی صاحب نے مجھے پھر حضرت اقدس کی طرف آگے کر دیا۔تب حضور نے اپنا انگوٹھا اور انگوٹھا کے ساتھ والی دو انگلیوں کو اس طرح میری آنکھوں پر رکھا کہ انگوٹھا ایک آنکھ پر تھا اور دونوں انگلیاں دوسری آنکھ پر اور پھر ان کو ایک دو دفعہ نرم سی حرکت رجعی دی۔جس پر میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے بینائی حاصل ہوگئی۔تب میں بہت رویا اور آخر حضرت اقدس نے کسی قدر زجرانہ رنگ میں فرمایا کہ بہت جزع فزع بھی نہیں کرنی چاہیے۔انسان کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ خدا غفور رحیم ہے اور پھر تسلی اور تشفی کے سلوک کے انداز سے فرمایا کہ یہ پلنگ ہے اس پرسو جاؤ۔وہ خاصہ بڑا پلنگ تھا اور اس پر سفید براق چادر بچھی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ پلنگ حضور کی اپنی استراحت گاہ ہے چنانچہ میں خواب میں اس پلنگ پر سو جاتا ہوں۔صبح جب میں اٹھا تو ایک طرف تو اس دوائی کا اثر جو خارج میں میں اس وقت محسوس کر رہا تھا اس کے پیش نظرا اپنی خواب کو سچا سمجھتا تھا لیکن دوسری طرف یہ وسوسہ ستا تا تھا کہ میرے دل میں کئی دنوں سے یہ خیال تھا کہ اگر حضرت صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں تو علمائے وقت نے ان کو قبول کر لیا ہوتا۔تو کیا ایسا تو نہیں کہ میرے اپنے خیالات کا ہی یہ اثر ہو۔جہاں تک اس وقت یاد ہے ایک دودن اس کشمکش میں گزر گئے اور میں کچھ فیصلہ نہ کر سکا۔لیکن آخر کار میرے دل پر خواب کی خارجی کیفیت کا اثر زیادہ غالب پایا گیا اور میں نے بیعت کے لئے عریضہ حضرت اقدس کی خدمت میں لکھ دیا۔لیکن دل میں وہ کشمکش قائم رہی بلکہ بڑھتی گئی اور اُدھر سے بیعت کی منظوری کی بھی اطلاع نہ آئی۔چنانچہ جہاں تک مجھے یاد ہے پندرہ میں یوم اسی حالت میں گزر گئے مگر میں دعا کرتا رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے یقین دلی فرمائے اور سیدھی راہ دکھائے تو ایک رات پھر خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ریل گاڑی ڈاک گاڑی کی طرح تیز جارہی ہے لیکن وہ گاڑی دو منزلہ ہے۔میں ایک کھیت میں جہاں سے فصل کنک ( گندم ) کٹ چکی ہے اور کنک کے منڈھ (سنڈھا) موجود ہیں اور اس میں پوہلی ( کنڈیاری) بھی ہے کھڑا ہوں اور گاڑی کی طرف مونہہ ہے جیسا کہ دیہاتی چرواہے لڑکے کسی قدر حیرت سے جب گاڑی ان کے قریب سے گذرتی ہے ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہیں دیکھ رہا ہوں۔جب گاڑی میرے قریب سے گذر رہی ہے تو مجھے پیچھے سے کسی زبر دست پنجه دار جانور نے جیسا کہ عقاب کا تخیل ہے