تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 11
تاریخ احمدیت۔جلد 28 11 سال 1972ء آپ کو پاکستان کے جوہری طاقت کے منصوبہ کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔آپ نے چار دہائیوں تک ملک کے مختلف سائنسی منصوبہ جات پر کام کیا۔ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے دنیا بھر کے لئے جو خدمات سرانجام دیں ان کا تذکرہ وقتاً فوقتاً تاریخ احمدیت میں آتا رہے گا۔لیکن اس موقع پر بطور خاص ان کی اپنے وطن پاکستان کے لئے جو خدمات ہیں ان کی ایک جھلک پیش ہے۔چنانچہ جناب ڈاکٹر منیر احمد خان صاحب سابق چیئر مین اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی پاکستان کے بارہ میں سائنسی خدمات کے حوالہ سے تحریر کرتے ہیں۔سائنس کی دنیا کے لئے عبد السلام ہمارا دریچہ تھا کیونکہ تمام دنیا کے عظیم ترین سائنسدان ان کا احترام کرتے تھے۔انہوں نے دنیا کے اعلیٰ ترین تحقیقی اداروں اور یو نیورسٹیوں میں تیسری دنیا کے سائنسدانوں کو مواقع مہیا کئے۔تھیوریٹیکل فزکس میں ان کی نمایاں خدمات کے علاوہ جس کے لئے انہیں نوبل انعام ملا، ان کا سب سے بڑ اور نہ یہ ہے کہ انہوں نے تیسری دنیا کے لئے سائنس دانوں کی ایک کثیر تعداد کو تربیت دی۔پروفیسر عبدالسلام نے پاکستان میں سائنس کی ترقی کے لئے نا قابل فراموش خدمات سرانجام دیں اور ۱۴ سال تک پی اے ای سی) Pakistan Atomic Energy Commission) کے رکن رہے۔وہ اس کے قیام ہی سے اس کی راہنمائی کرتے رہے۔انہوں نے ہی اس کے لئے عمارت تعمیر کرنے کے مقام کا تعین کیا اور حکومت کو قائل کیا کہ وہ سائنس دانوں کو تربیت دے، انہیں بیرون ملک بھیجے۔انہوں نے نئے سائنس دانوں کو یونیورسٹیوں اور لیبارٹریوں میں جگہ دلوائی۔انہوں نے پاکستان میں سیم و تھور کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایوب خان کو امریکہ سے مدد لینے کا مشورہ دیا جس کے بعد ریول مشن (Revelle Mission) قائم ہوا۔۱۹۶۰ء کی دہائی میں مجھے ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ نیوکلیئر فیول پروسیسنگ کے قیام کے لئے تجاویز تیار کرنے کا موقع ملا۔66 ڈاکٹر عبد السلام صاحب کی وطن عزیز کے لئے خدمات ڈاکٹر عبدالسلام صاحب مندرجہ ذیل اداروں کے ذریعہ اپنے وطن پاکستان کی خدمت میں کوشاں رہے۔