تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 9 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 9

تاریخ احمدیت۔جلد 28 9 سال 1972ء فرمایا:۔جب تک قومی طور پر ہم اخلاق کی اصلاح کی طرف توجہ نہ کریں گے کامیابی نہیں ہو سکے گی۔توبہ استغفار اور اخلاق کی اصلاح کامیابی کی کنجی ہے اس کے بغیر تائید الہی نہیں آتی۔پس اب بھی وقت ہے کہ پاکستان کے باشندے اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے تو بہ کریں اور اپنے اخلاق اور اعمال کو درست کریں تا کہ خدا کی رضا ان کو نصیب ہو۔پھر ان کو کسی چیز کا ڈر نہ ہوگا اور دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کو شکست نہ دے سکے گی۔فرمایا:۔کمیونزم کہتی ہے کہ مذہب افیون ہے لیکن انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جو قوم اس خدا پر ایمان لاتی ہے جس کی ایک صفت یہ ہے کہ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْهُر اس پر غنودگی کیونکر طاری ہو سکتی ہے۔مذہب تو بیداری کا نام ہے اسلام کے خدا پر غنودگی طاری ہی نہیں ہوسکتی اس کے ماننے والوں پر کیوں غنودگی طاری ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے ایک خوابیدہ اور رسوم و رواج میں جکڑی ہوئی انسانیت کو خواب غفلت سے بیدار کر کے دنیا کا استاد بنا دیا تھا۔کیا کبھی کوئی افیونی شخص یا قوم بھی اس مقام پر پہنچی ہے؟ ہرگز نہیں۔حضور نے اسلام آباد میں ایک ہفتہ سے زائد قیام فرمایا۔۱۳ فروری کو جماعت احمد یہ راولپنڈی نے طعام و چائے وغیرہ کا انتظام کر رکھا تھا۔چوہدری احمد جان صاحب امیر ضلع نے تمام انتظامات کی نگرانی فرمائی۔حضور انور کے قافلہ میں حضرت بیگم صاحبہ، صاحبزادی امتہ العلیم صاحبہ، بیگم مرزا مظفر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا مجیب احمد صاحب شامل تھے۔ربوہ کے لئے روانگی ۱۵ فروری کو حضور اقدس ربوہ کے لئے روانہ ہوئے۔جہلم میں صاحبزادہ مرز امنیر احمد صاحب کے ہاں مختصر قیام فرمایا۔راولپنڈی کے چند افراد امیر صاحب کی قیادت میں جہلم تک ساتھ آئے۔دو پہر حضور نے شیخو پورہ میں چوہدری انور حسین صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع شیخو پورہ کے ہاں کچھ دیر کے لئے قیام فرمایا۔چوہدری صاحب نے معززین شہر کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔حضور نے اس موقع پر فرمایا کہ ماؤزے تنگ چیئر مین کمیونسٹ پارٹی چین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح مبارکہ سے بہت متاثر معلوم ہوتے ہیں اور ان کی بعض تحریرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ کا مطالعہ کیا ہوا ہے۔شام کو حضور ربوہ تشریف لے آئے۔