تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 8
تاریخ احمدیت۔جلد 28 8 سال 1972ء روانہ ہو کر کچھ وقت کے لئے راستہ میں چوہدری انور حسین صاحب امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع شیخوپورہ کی کوٹھی پر رونق افروز ہوئے۔اس موقع پر بعض غیر از جماعت معززین بھی موجود تھے۔حضور نے ان کے متعدد سوالات کے جوابات بھی دیئے۔اس موقع پر ایک دوست کے سوال کے جواب میں فرمایا قرآن کریم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ تمہاری زندگی ہمیشہ صراط مستقیم کے مطابق ہونی چاہیے اور تمہارے افعال میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہونا چاہیے۔تقضاء کی ایک مثال یہ ہو سکتی ہے کہ ایک احمدی کبھی کمیونسٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ احمدیت اور کمیونزم آپس میں متضاد اصولوں پر قائم ہیں اس لئے جو احمدی بھی دونوں کشتیوں میں پاؤں رکھے گاوہ یقینا نا کامی کا منہ دیکھے گا۔فرمایا:۔ہم نے حال ہی میں اپنی لائبریری کے لئے ایک کتاب ”کتاب المؤلفین منگوائی ہے ( مؤلّف عمر رضا کحالہ۔ناشر مطبعة الرقی دمشق ۱۳۸۰ ۵ / ۱۹۶۰ء) یہ کئی جلدوں میں ہے اور اس میں مسلمان مؤلفین کے نام اور ان کی تالیفات کا تذکرہ ہے۔فرمایا میں نے اس کی ایک جلد ( نمبر ۱۱ صفحہ ۴۰) منگوائی ہے اور اس میں محی الدین ابن عربی " کا ذکر نکالا اس میں لکھا تھا کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔اسی طرح حضرت سید عبد القادر جیلانی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں ولی ہوں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مجھے کا فر اور زندیق کہا گیا ہے۔گویا ان کے نزدیک ولایت کیلئے یہ شرط ہے کہ ولی پر فتاویٰ کفر لگائے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی کفر کے فتوے لگائے گئے اور حضرت سید عبدالقادر جیلانی " کی دلیل کے مطابق یہ فتاوی تکفیر ہی آپ کے فرستادہ ہونے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔فرمایا :۔حضرت مصلح موعود کے زمانہ میں جب بعض لوگوں کو جماعت سے خارج کیا گیا تو ایک دوست مجھے ملنے آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ کی جماعت میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں؟ میں ان کو ایک یوکلپٹس کے درخت کے قریب لے گیا۔اس میں چند سوکھی ٹہنیاں بھی تھیں لیکن درخت سرسبز و شاداب تھا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ چند سوکھی ٹہنیاں درخت کی موت کی علامت ہیں یا زندگی کی۔انہوں نے کہا بس میں سمجھ گیا ہوں۔فرمایا ہر صحت مند درخت میں سوکھی ٹہنیاں بھی ہوتی ہیں اصل چیز جڑ کی مضبوطی ہے۔جماعت میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اگر چہ تعداد میں بہت ہی کم ہوتے ہیں لیکن ہوتے ضرور ہیں جو سوکھی ٹہنیوں کے مشابہ ہوتے ہیں لیکن جماعت کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اس لئے یہ سوکھی ٹہنیاں خود بخود گرتی جاتی ہیں اس پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔