تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 171
تاریخ احمدیت۔جلد 28 171 سال 1972ء ہر ممکن سہولت میسر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور اس کوشش میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اہل ربوہ نے بھر پور حصہ لیا۔اہل ربوہ کے علاوہ باہر سے تشریف لانے والے بہت سے ایسے جواں ہمت مہمان بھی تھے جنہوں نے اپنی خدمات جلسہ سالانہ کی انتظامیہ کو پیش کیں اور اس کے ماتحت وہ بھی دن رات خدمت کے مختلف کاموں میں مصروف رہے۔انتظامات جلسہ سالانہ کا جو حصہ جلسہ گاہ کی تعمیر اور جلسہ کے پروگرام اور سٹیج کے ٹکٹ وغیرہ سے تعلق رکھتا ہے وہ نظارت اصلاح و ارشاد کے ذمے ہوتا ہے۔چنانچہ ناظر اصلاح و ارشاد مولانا عبدالمالک خان صاحب کی زیر نگرانی یہ جملہ امور طے پائے۔سٹیج اور گیلریوں کی تعمیر تو جلسہ سے کئی روز پہلے ہی شروع کر دی گئی تھی۔سٹیج کے دائیں اور بائیں طرف کچھ حصہ سامعین خاص کے لئے مخصوص کر دیا گیا اور ان کے بیٹھنے کے لئے کرسیوں کا انتظام کیا گیا۔اس دفعہ سٹیج کے دائیں پہلو میں لوائے پاکستان اور بائیں طرف لوائے احمدیت لہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔چنانچہ جلسہ کے تینوں روز یہ دونوں جھنڈے برابر لہراتے رہے اور خدام باری باری ان کے نیچے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔جلسہ گاہ کے تین طرف اس دفعہ بھی گیلریاں بنائی گئی تھیں۔174 جلسہ سالانہ کے دوسرے روز ۲۷ دسمبر کی شام کو فضل عمر فاؤنڈیشن کے کمیٹی ہال میں ورلڈ احمد یہ میڈیکل ایسوسی ایشن کا تیسرا سالانہ اجلاس کرنل عطاء اللہ صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سب سے پہلے مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر سیکرٹری مجلس نصرت جہاں نے مغربی افریقہ میں احمدی ڈاکٹروں کی عظیم الشان طبی خدمات کی مختصر رپورٹ سنائی بعد ازاں کرنل رمضان صاحب نے غانا میں متعین احمدی ڈاکٹروں کی خوشکن مساعی کا آنکھوں دیکھا حال مؤثر انداز میں بیان کیا۔دوران اجلاس مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔احمدی ڈاکٹروں نے افریقہ میں خدمت خلق کے کام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔اجلاس میں کثیر التعداد ڈاکٹروں اور لیڈی ڈاکٹروں کے علاوہ میڈیکل کالجوں کے طلبہ نے شرکت کی۔175 حضرت خلیفہ اسیح کے روح پر در خطابات سلسلہ احمدیہ کی روایات کے مطابق اس جلسہ کا اصل پروگرام سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی روح پرور اور ایمان افروز تقاریر تھیں جن کی بدولت دنیائے احمدیت کو نیا عزم اور نیا ولولہ عطا ہوا۔