تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 170 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 170

تاریخ احمدیت۔جلد 28 170 سال 1972ء جنہیں خدا کے فضل سے مہمان نوازی کی تقریبات کا وسیع انتظامی تجربہ تھا۔آپ کے ماتحت تین نائب افسر جلسہ سالانہ تھے یعنی محترم پروفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم اے، محترم چوہدری حمید اللہ صاحب اور محترم سید محمود احمد صاحب ناصر۔انتظامات کو بہ احسن سرانجام دینے کے لئے تیس مختلف نظامتیں مقرر تھیں مثلاً نظامت سپلائی، نظامت مکانات، نظامت استقبال و الوداع، نظامت مہمان نوازی، نظامت نگرانی و حاضری سامعین ، نظامت آب رسانی ، نظامت اجرائے پر چی خوراک ، نظامت طبی امداد وغیرہ وغیرہ۔ہر نظامت میں افسر صیغہ اور نائب افسر صیغہ کے ماتحت معاونین کی بہت بڑی تعداد تھی جو دن رات اپنے فرائض میں منہمک رہی۔مہمانوں کے قیام کے لئے مردوں اور عورتوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مختلف اجتماعی قیام گاہوں کا انتظام تھا جہاں وہ ایک تنظیم کے ماتحت جماعت وار ر ہائش پذیر رہے۔پھر بہت سے خیمہ جات اور چھولداریوں کا بھی اہتمام تھا ان کے علاوہ ربوہ کا قریباً ہر گھر مہمانوں سے پر تھا۔ان سب جگہوں پر پر الی بچھا دی گئی تھی جس پر مہمان رات کو آرام کرتے تھے۔ان کے لئے روٹی اور کھانا تیار کرنے کے لئے تین لنگر خانوں کی علیحدہ علیحدہ نظامتیں قائم تھیں۔یعنی لنگر خانہ دار الصدر ( ناظم ملک سیف الرحمن صاحب) لنگر خانہ دارالرحمت (ناظم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب) لنگر خانہ دارالعلوم ( ناظم پروفیسر ڈاکٹر سید سلطان محمود صاحب شاہد ) لنگر خانہ دار الصدر میں روٹی تیار کرنے کے لئے سوئی گیس سے چلنے والی ۱۶ مشینیں نصب تھیں جو تھوڑے سے تھوڑے عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں روٹیاں تیار کرتی رہیں۔اس لنگر خانہ میں سوئی گیس کی ایک خود کار مشین بھی نصب تھی جس میں روٹی کے پیڑے بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔گوندھا ہوا آٹا مشین میں ڈال دیا جاتا ہے روٹیاں از خود تیار ہو کر پکتی چلی جاتی ہیں۔لنگر خانہ دارالرحمت میں سوئی گیس کی دس مشینیں دن رات کام کرتی رہیں۔البتہ لنگر خانہ دار العلوم میں تندوروں پر ہی حسب سابق روٹی تیار ہوتی رہی کیونکہ وہاں پر ابھی سوئی گیس نہیں پہنچی تھی۔ہر روز جلسہ سالانہ شروع ہونے سے پہلے تمام مہمانوں کو جو اجتماعی قیام گاہوں کے علاوہ ربوہ کے تمام محلہ جات میں اور قریباً ہر ایک گھر میں موجود تھے کھانا کھلا دیا جاتا تھا۔بیمار ہو جانے والے مہمانوں کے لئے پر ہیزی کھانا تیار کرنے کی الگ نظامت موجود تھی۔الغرض مہمانوں کے قیام وطعام کے لئے