تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 172
تاریخ احمدیت۔جلد 28 172 سال 1972ء حضور نے حسب دستور مردانہ جلسہ سے تین بار خطاب فرمایا۔علاوہ ازیں ایک مخصوص خطاب احمدی خواتین کے سٹیج سے ہوا۔افتتاحی خطاب حضور انور نے اپنے خطاب میں جلسہ سالانہ کے حوالہ سے بیان فرمایا کہ یہ جلسہ دنیاوی میلوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ وہ جلسہ ہے جس کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ پہلے جلسہ میں ۷۵ احمدی احباب شریک ہوئے اور آج اس جلسہ میں اللہ کے فضل سے ۷۵ ہزار سے زائد احمدی احباب شریک ہورہے ہیں۔( گنتی پر یہ تعداد ایک لاکھ ۲۵ ہزار ثابت ہوئی)۔حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے وہ کامل قدرتوں والا ہے۔اس نے ساری دنیا کو یہ کہا کہ اٹھو اور میرے اس سلسلہ کو مٹانے کی کوشش کرو اور سارے ساز وسامان اس کے خلاف اکٹھے کرو لیکن تم کامیاب نہیں ہو گے۔وہی ہو گا جس کا خدا نے ارادہ کیا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ سے یعنی جماعت احمدیہ کو آلہ کار بنا کر دنیا کے سفید فام کے ساتھ سرخ رنگ اور گندمی رنگ والوں کے ساتھ ان کو بھائی بھائی بنادیا ہے۔حضور انور نے خطاب کے آخر میں احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اجتماع کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی تھی اس لئے اس اجتماع کے مقاصد اپنی نظر کے سامنے رکھیں۔حضور نے فرمایا کہ اپنی عاجزانہ کیفیت اور عاجزانہ مقام کو نہ بھولیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں سے کبھی غافل نہ ہوں۔یہ خطاب مختصر ہونے کے باوجود نہایت درجہ جامع و مانع شان رکھتا تھا۔اور اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے ایمان ویقین اور معرفت و بصیرت کے صدہا سبق پنہاں تھے۔176 حضور انور کا خواتین سے خطاب مورخہ ۲۷ دسمبر کو حضور نے قبل از ظہر خواتین احمدیت سے پر معارف خطاب فرمایا جس میں حضور انور نے فرمایا کہ جماعت پر جو برکات سماوی نازل ہو رہے ہیں اور جو برکات نازل ہو چکی ہیں ان کے شکرانے کے طور پر کثرت سے تسبیح و تحمید اور استغفار کریں۔حضور انور نے فرمایا کہ لجنہ اماءاللہ جو ہماری احمدی مستورات کی بنیادی تنظیم ہے انہوں نے اس سال پچاس سالہ جشن منایا ہے۔اللہ