تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 105 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 105

تاریخ احمدیت۔جلد 28 105 سال 1972ء حضور انور نے آنحضرت صل اللہ الیتیم کے ذریعہ پیدا ہونے والے انقلاب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ روسی انقلاب سے مرعوب ہونے کی وجہ ہے اور نہ چینی انقلاب سے دل لگانے کی چنداں ضرورت ہے۔کیونکہ ہمارے سید و مولا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیدا کردہ عظیم الشان انقلاب ہمارے لئے بیش قیمت سرمایہ حیات ہے۔روسی اور چینی انقلاب سالہا سال کی جدو جہد کے مرہونِ منت ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حسن و احسان سے سارے جزیرہ نما عرب کو چند سالوں میں اسلام کا گرویدہ کر لیا۔لوگوں کو باخدا ہی نہیں بلکہ خدا نما وجود بنادیا۔بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے زمانہ میں کسریٰ اور قیصر کی دو عظیم الشان طاقتیں مقابلے پر آئیں تو مٹھی بھر مسلمان جو عزم و ہمت کے پیکر اور ایمان وایقان کی مضبوط چٹا نہیں تھیں وہ ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئیں۔یہ مسلمانوں کا حسنِ سلوک تھا جس سے گرویدہ ہو کر علاقے کے علاقے اور ملک کے ملک مسلمان ہو گئے۔چنانچہ یہ مسلمانوں کے حسن و احسان کا کرشمہ تھا کہ کئی جگہوں پر غیر مسلموں نے رحمت کے فرشتے سمجھ کر ان کا خیر مقدم کیا اور ان کی جدائی پر غم واندوہ کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے۔97 ۹ حضور انور نے اقتصادیات کے بارہ میں فرمایا کہ آج کے اقتصادی مسئلے کا صحیح حل قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔اسلام کہتا ہے ہر فرد کی استعداد خدا کی ودیعت کردہ اور مختلف ہے۔اگر قوت و استعداد مختلف ہے تو اس کی کوشش بھی مختلف ہوگی ، جب کوشش مختلف ہوگی تو اس کے نتائج اور ثمرات بھی مختلف ہوں گے۔گویا جو سب سے زیادہ کمائے گا وہ اعلیٰ اور جو اس سے تھوڑا کمائے گا وہ درمیانہ اور جوسب سے تھوڑا کمائے گا وہ نچلے درجہ کا کہلائے گا۔اس قدرتی معاشرتی اونچے نیچے کے فرق کو کم سے کم کرنے کے لئے اسلام کہتا ہے کہ چونکہ کسی فرد کی استعدادا پنی نہیں بلکہ خدا کی عطا کردہ ہے اس لئے اگر کسی شخص کو زیادہ استعداد ملی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس نے اپنی ضرورت سے زیادہ کمائی کرلی ہے تو اس میں تھوڑی استعداد مگر زیادہ ضرورت والے فرد کا بھی حصہ ہے وہ اُسے ضرور ملنا چاہیے۔چنانچہ یہی وہ قدرتی فرق ہے جسے تسلیم کرتے ہوئے چین نے مکمل مساوات کو ناممکن قرار دیا ہے۔روسیوں نے عملاً ثابت کر دکھایا ہے کہ مکمل مساوات ناممکن ہے۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے فرمایا، استعدادوں میں اختلاف یعنی عدم مساوات خالی از حکمت نہیں۔اگر یہ اختلاف نہ ہوتا تو آسمانی ہدایت کی ضرورت نہ ہوتی۔دوسرے مخلوق کے حقوق و واجبات کا احساس پیدا نہ ہوتا۔ایک