تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 104
تاریخ احمدیت۔جلد 28 104 سال 1972ء سے دعا کئے بغیر نہ ڈاکٹر کی لیاقت کام آتی ہے اور نہ کوئی دوائی کارگر ہوتی ہے۔فرمایا یہی وجہ ہے کہ ہمارے جو ڈا کٹر افریقہ گئے ہیں وہاں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے ایسے مریضوں کا بھی علاج کیا اور ان کو شفاملی ہے جو بڑے بڑے ماہر غیر ملکی ڈاکٹروں کے نزدیک لا علاج تھے۔93 ۶۔حضور انور نے مورخہ ۳۰ جولائی کو احباب جماعت سے دوران گفتگو فر ما یا کہ پچھلی جنگ میں وہ بہادر فوجی جوان جو بلند و بالا برفانی پہاڑوں پر دشمن کے سامنے سینہ سپر تھے اور جن کے پاس پوری طرح گرم کپڑے بھی نہیں تھے ان کے لئے ہم نے فوجی سپاہیوں کی ضرورت اور ان کے مشورے سے ساڑھے چھ ہزار صدریاں تیار کر کے راولپنڈی میں متعلقہ حکام کو پیش کیں۔بعض جگہوں پر مثلاً شیخو پورہ ضلع سے کل ۱۲۰ صدریاں ۳۰ روپے فی کس کے حساب سے تیار کر کے بھجوائی گئیں مگر اس کے مقابلے میں جہاں ہماری یہ پیشکش تعداد میں کہیں زیادہ تھی وہاں اس کی لاگت فی صدری ساڑھے چار روپے تھی۔اس کی ایک وجہ تو کپڑے کے احمدی کارخانہ داروں کا تعاون تھا۔انہوں نے کچھ کپڑ اتو مفت دے دیا اور کچھ اصل قیمت پر مہیا کر دیا۔دوسرے سرگودھا اور لائل پور (فیصل آباد) کے بعض احمدی زمینداروں نے روئی مفت بھیجوا دی۔تیسرے لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کے زیر اہتمام لجنات کا دیوانہ وار اور انتھک محنت سے کام کرنے کا جذبہ تھا۔انہوں نے رضا کارانہ طور پر تھوڑے سے عرصہ میں بھرائی سلائی کر کے ہزاروں کی تعداد میں صدر یاں تیار کر دیں۔94 ے۔حضور انور نے مزید فرمایا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق كه الكلمة الحكمة ضالة المومن فحيث وجدها فهو احق بها‘ 95 ہر نیک اور اچھی بات جہاں سے بھی اور جس سے بھی ملے لے لینی چاہیے کیونکہ یہ مومن کا ورثہ ہے۔ہر اچھی بات کا اصل سر چشمہ قرآن کریم ہے۔فرمایا ” چیئر مین ماؤ زندہ باد کے نعرے تو لگتے ہیں لیکن اصل میں اس کا فائدہ اسی صورت میں ہے کہ ہمیں اس کے خیالات و افکار اور اس کے عقائد و نظریات کا بھی علم ہو۔جو آدمی بھی اس کا مطالعہ کرے گا وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس نے اپنے معاشرہ کو ترقی دینے اور غربت وافلاس، ظلم و نا انصافی کا قلع قمع کرنے کے لئے جتنے اچھے اور مفید اقدامات کئے ہیں وہ اسلامی تعلیم کے عین مطابق ہیں۔اس لئے اس کی اچھی باتوں کی نہ صرف تعریف کرنی بلکہ انہیں لے لینا چاہیے۔کیونکہ یہ تو دراصل ہمار اور شہ ہے مگر انہوں نے اسے اپنالیا ہے اور ہم اس کے وارث ہوتے ہوئے بھی اس جذ بہ عمل اور سچی لگن سے محروم ہیں جس سے چینی سرشار ہیں۔96