تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 106
تاریخ احمدیت۔جلد 28 106 سال 1972ء دوسرے سے تعاون کی روح بھی پیدا نہ ہوتی۔تیسرے جب سب لوگ برابر استعدادوں کے مالک ہوتے اور ایک دوسرے کی مدد کے محتاج نہ ہوتے تو وہ اس قسم کے ثواب سے محروم ہو جاتے۔98 ۱۰۔حضور نے انسان کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں اور ان کی کامل نشوونما پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ قوتیں اور استعدادیں ایسی ہی لازم و ملزوم ہیں۔ان کی درجہ بدرجہ اور کامل نشو نما پر انسان کی تمام تر ترقیات کا دارو مدار ہے تمثیلی زبان میں انسان کو ایک مکان کہہ لیں جس کی بنیاد جسمانی طاقتوں کی نشو ونما پر اٹھتی ہے۔ذہنی قوتیں بمنزلہ دیواروں کے ہوتی ہیں۔اخلاقی صلاحیتیں چھت کا کام دیتی ہیں تو روحانی اقدار کی حکمرانی قائم ہونے سے وہ مکان روحانی برکتوں کا گہوارہ اور انوار الہیہ سے بقعہ نور بن جاتا ہے۔ہماری جماعت کو اصلاح نفس کی طرف بہت توجہ کرنی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد اسلام کا عالمگیر غلبہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی حکومت کا قیام ہے۔یہ عظیم الشان ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ڈالی گئی ہے۔اس اہم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہمیں اپنے اندروہی نو رایمان اور فدائیانہ رنگ، وہی ایثار کا جذبہ، وہی قربانی کی روح اور بنی نوع انسان سے وہی سچی ہمدردی پیدا کرنی پڑے گی جو صحابہ رضوان اللہ علیہم کا طرہ امتیاز تھا۔فرمایا پاگل تھے وہ لوگ جنہوں نے کہا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور نادان تھے وہ مسلمان جنہوں نے کہا تھا کہ مسلمان ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر نکلے تھے۔ہمارے دائیں ہاتھ میں بھی قرآن ہے اور بائیں ہاتھ میں بھی قرآن ہے یہی قرآنی انوار ہیں جن کے ساتھ ہم نے دنیا میں اسلام کو پھیلانے کی نسلاً بعد نسل جد و جہد جاری رکھنی ہے۔99 ایبٹ آباد میں عشاق خلافت کی آمد جب تک حضرت امام ہمام ایبٹ آباد میں رونق افروز رہے ملک کے گوشہ گوشہ سے آنے والے عشاق خلافت کا گویا تانتا بندھا رہا۔واہ کینٹ ، ٹیکسلا اور لائل پور (فیصل آباد ) کے ۱۰۰ مخلصین نے تو ایک دن میں ہی اجتماعی ملاقات کی ان کے علاوہ مانسہرہ، دانہ، پھگلہ، لاہور، گوجرانوالہ، پشاور، تربیلا، راولپنڈی، ربوہ، اسلام آباد، کیمبلپور، مظفر آباد (آزاد کشمیر )، مری، ٹیکسلا، کراچی، مردان، گجرات اور کوئٹہ کے مخلصین بھی آئے اور اپنے پیارے امام کی زیارت اور بابرکت کلمات سے مستفید ہوئے۔حضور کے قیام ایبٹ آباد کے دوران جن حضرات نے شرف ملاقات حاصل کئے ان میں سے صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت احمدیہ سرگودھا، چوہدری احمد جان