تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 74 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 74

تاریخ احمدیت۔جلد 27 74 سال 1971ء أَحْسَنُ کہہ کر احسن کی شرط لگائی ہے۔ہو سکتا ہے مخالف تبلیغ کے دوران میں سختی بھی اختیار کریں، گالیاں بھی دیں، آپ کو جسمانی تکلیفیں دیں ان سب کے نتیجہ میں آپ کو اس حقیقت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آپ کو صرف جدال حسنہ کی اجازت ہے۔اس طرح دفاع کرنے کی اجازت ہے جس کو قرآن کریم جدال حسنہ فرماتا ہے۔یہ جدال حسنہ کیا ہے؟ اس کی تعریف خود قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تبلیغ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے۔بیان ہورہا ہے) اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِى حَمِيمٌ ( حم السجدة: ۳۵) کہ جب تمہارا مقابلہ ہو تو جدال حسنہ سے کام لو۔اپنا دفاع بہترین رنگ میں کرو۔جدال حسنہ ہم اس کو کہیں گے جس کے نتیجہ میں جو تمہارا جان کا دشمن ہو وہ جان فدا کرنے والا دوست بن جائے۔۔۔۔۔قرآن کریم کا اس پہلو سے مطالعہ ضرور کرتے رہیں۔مثال کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ بعض خاص طریقہ ہائے تبلیغ کے متعلق بعض خاص انبیاء کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ہمارے ہاں بے صبری کا ایک یہ بھی مظاہرہ ہوتا ہے کہ تھوڑی سی بات کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ حجت تمام ہو گئی۔اور کہتے ہیں کہ بس اب عذاب کا انتظار کرو۔چھوٹی چھوٹی ہمتوں والے لوگ مباہلوں کا چیلنج دے بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب وہ آخری وقت آ گیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر آیا تھا اور اس سے پہلے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا تھا اور اب ہم اس مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں کہ مباہلہ کریں اور اگلے کو ہلاک کر دیں۔حالانکہ حجت تمام کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔سورہ نوح کا مطالعہ کریں یہ دیکھیں کہ حضرت نوح نے اپنی آخری دعا سے پہلے جس میں اس قوم کی ہلاکت کی دعا مانگی ہے کیا کیا با تیں پیش کی ہیں کہ کیا کیا میں اس قوم کے ساتھ کر چکا ہوں۔فرماتے ہیں دن رات میں نے ان کو نصیحتیں کیں۔میں نے ان کو صبح سے ڈرایا ہے شام سے بھی ڈرایا ہے تمام بدلتے ہوئے موسموں میں تمام بدلتی ہوئی کیفیات میں ان کو انذار کیا۔میں نے ہر طریقے سے تیرا پیغام انہیں پہنچایا۔میں نے گریہ و