تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 75
تاریخ احمدیت۔جلد 27 75 سال 1971ء زاری بھی کی، ان کی منتیں بھی کیں اور اے خدا! تمام دروازے کھٹکھٹائے ہیں اور اب میں ان کی ہلاکت کی دعا کر رہا ہوں۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دعا بھی خدا تعالیٰ کی اس اطلاع کے بعد تھی کہ اب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔نوح نے کہا کہ اب تو تو مجھے اطلاع دے بیٹھا ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے تو اے خدا! اس آخری اطلاع کے بعد اب میں تیرے حضور گریہ وزاری کرتا ہوں کہ ایسے انسانوں کو جو کافر اور ملحد جنیں، ایسی ماؤں کو جو فجار اور کفار پیدا کریں یہ بہتر ہے کہ ایسے لوگوں کو اس دنیا سے اٹھا لے۔یہ ہے حجت تمام کرنا۔آپ کو اپنے حوصلے بہت بلند رکھنے پڑیں گے۔تبلیغ میں پہلا اور آخری حربہ دعا کا ہے دعا کی مدد کے بغیر کوئی تبلیغ نہیں ہوسکتی، کوئی توفیق نہیں مل سکتی۔72 لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا چودہواں سالانہ اجتماع ۸ /اکتوبر ۱۹۷۱ء کو شروع ہوا اور ۱۰ /اکتوبر ۱۹۷۱ء کو نہایت درجہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔بیرون ربوہ سے ۱۳۶ مجالس کی ۸۸۸ ممبرات شامل ہوئیں۔جبکہ اجتماع میں مستورات و ناصرات کی مجموعی تعداد پانچ ہزار رہی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا خطاب سید نا حضرت خلیفہ لمسیح الثالث نے ۹ راکتو بر ۱۹۷۱ کواجتماع کے دوسرے دن خطاب فرمایا۔آپ نے سورۃ التغابن کی آیت نمبر ۱۴ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ ہمارے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ہم نے ساری دنیا کو حلقہ بگوش اسلام کرنا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت تمام بنی نوع انسان کے دلوں میں قائم کرنی ہے۔ان میں خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت پیدا کرنی ہے۔اور یہ کام ہم اپنے زور ہمت اور وسائل سے نہیں کر سکتے۔اس کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کا سہارا طلب کرنا چاہئیے۔اس کی نصرت اور تائید کے طلبگار رہنا چاہیئے۔جو شخص خدا تعالیٰ پر توکل رکھتا ہے وہ دنیا کی کسی طاقت سے شکست نہیں کھایا کرتا۔کیونکہ سب طاقتوں اور قوتوں کا منبع وہی ہے۔دنیا کی ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔دنیا میں ایک پتا بھی اس کی اجازت اور علم کے بغیر نہیں ہل سکتا۔