تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 73 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 73

تاریخ احمدیت۔جلد 27 73 سال 1971ء حسنہ کی بہترین مثال دیکھنی ہو تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کے مضمون پر جو باتیں بیان فرمائی ہیں ان کا مطالعہ کریں۔ایک ایک لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے اور دل کی گہرائیوں میں پیوست ہو جاتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح یہ عبارات سیدھی دل میں جاگزیں ہو گئی ہیں۔تو موعظہ حسنہ میں پہلی شرط یہ ہے کہ نصیحت اخلاص اور محبت میں اس طرح ڈوبی ہوئی ہو کہ وہ دل سے نکلے اور دل میں جذب ہو جائے اور درمیان کی ساری روکیں بیچ میں سے غائب ہو جا ئیں۔ماں بچے کو جو نصیحت کرتی ہے ہمدردی کے ساتھ ، دکھ کے ساتھ ، پیار کے ساتھ ، وہ موعظہ حسنہ ہے اور ماں سے زیادہ پیار کرنے والے انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں۔ماں کی نصیحت سے کئی گنا زیادہ اثر ان کے اندر ہوتا ہے تو عمدہ نصیحت اختیار کرنا اور عمدگی اور محبت کے ساتھ اسے پیش کرنا موعظہ حسنہ کا ایک پہلو ہے۔پس جب تک آپ جدال سے قبل محبت کی زبان میں ، ہمدردی کی زبان میں ،خلوص میں ڈوب کر ، ایسے دکھ کے ساتھ بات کرنی نہ سیکھ جائیں کہ دوسرا انسان سمجھے کہ یہ میرے غم میں ہلاک ہوا جارہا ہے۔اس وقت تک آپ موعظہ حسنہ پہنچانے کے اہل نہیں ہو سکتے۔اس کے بعد دلیل کا مقام آتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں مَوعِظَة حَسَنَة کے بعد فرمایا وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ١٢٦ ) جب حکمت بظاہر کام نہ کر رہی ہو۔یا یہ کہنا چاہیے کہ حکمت نے ایک زمین تیار کر لی ہو اور اس کے بعد موعظہ حسنہ نے زمین کو اور نرم کر دیا ہو، گداز کر دیا ہو، طبیعت مائل ہو جائے تو پھر علم کی باری آتی ہے پھر تمہیں دلائل پیش کرنے پڑیں گے اور صرف اسی پر بس نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ حکمت اور موعظہ حسنہ دونوں دلوں کو بھیجتے ہیں اور انسانی فطرت کا دودھ اترنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے پھر یہ نہ سمجھیں کہ بات ختم ہو گئی۔پھر اُس دودھ کو دو ہیں۔جہاں جدال کا ذکر ہے وہاں سے دلائل شروع ہو جاتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے جس میں جدال کرنا پڑتا ہے اور یہ جدال جو ہے اس جدال میں سختی اور خشونت کا مفہوم ہرگز نہیں ہے۔قرآن کریم نے جدال کے ساتھ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ