تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 72
تاریخ احمدیت۔جلد 27 72 سال 1971ء حضور کی زندگی کی ساری تاریخ اس پر شاہد ناطق ہے۔ایک چھوٹی سی بات میں عرض کروں گا کہ وہ واقعہ آپ نے سنا ہوا ہے کہ سردارانِ مکہ اکٹھے ہو کر حضرت ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اپنے بھتیجے کو تبلیغ سے باز رکھ لو جو تصورات اس کے ہیں بے شک ہوں ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ تو بہ کر کے ہمارے دین میں داخل ہو جائے۔ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ یہ دوسروں تک بات پہنچانی بند کر دے اس کے عوض اگر یہ حسین ترین عورت چاہتا ہے تو ہم اسے دنیا کی حسین ترین عورت پیش کر دیتے ہیں۔اگر مال و دولت کی خواہش ہے تو جو مال و دولت ممکن ہیں ہم اس کے قدموں میں نچھاور کر دیتے ہیں اور اگر اسے سرداری کا شوق ہے تو ہم اسے سرداری عطا کرتے ہیں اور سردار تسلیم کر لیتے ہیں لیکن یہ دوسروں کو تبلیغ کرنا چھوڑ دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان چیزوں کی جو اہمیت تھی وہ آپ کے اس جواب سے ظاہر ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اے چا! اگر ان کے دباؤ میں آکر آپ مجھے چھوڑ نا چاہتے ہیں اور آپ کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو مجھے چھوڑ دیجئے۔مجھے آپ کا سہارا نہیں ہے۔یہ دنیوی چیزیں کیا ہیں؟ خدا کی قسم! اگر سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دیں تب بھی میں تبلیغ سے باز نہیں آسکتا۔خدا نے ایک فریضہ مجھ پر عائد فرمایا ہے میں کس طرح اسے ٹال سکتا ہوں۔۔۔۔قرآن کریم میں جو انبیاء کے تبلیغ کے حالات ہیں ان کا آپ اگر تجزیہ کریں تو اس آیت (النحل : ۱۲۶ ) میں جو احکامات ہیں ان سب کے مضامین اس میں پیش ہیں۔حضرت نوح ، حضرت ابراہیم، حضرت موسی ، حضرت عیسی ، حضرت لوط ، حضرت صالح“ وغیرہ جتنے انبیاء ہیں ان کے واقعات میں اس آیت کے پیش نظر تمام مضامین آجاتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح حکمت سے کام لیا اور کس طرح موعظہ حسنہ کیا وغیرہ وغیرہ۔موعظہ حسنہ کو حکمت کے بعد رکھا گیا ہے۔ابھی تک دلیل کا ذکر نہیں آیا۔نصیحت دلیل کو نہیں کہتے۔فرمایا تم حکمت سے کام لیتے ہوئے موعظہ حسنہ پیش کرو۔موعظہ 71