تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 68
تاریخ احمدیت۔جلد 27 68 سال 1971ء ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور دنیا کی حفاظت کی نیت کے ساتھ ملک ملک ، قریہ قریہ اور شہر شہر دنیا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ تم خدا سے دور ہو گئے ہو تم اپنے لئے ہلاکت اور تباہی کے سامان پیدا کر رہے ہو تم اپنے رب کی طرف واپس آ جاؤ۔وَرَبَّكَ فَكَبَّر۔اس میں اندار کی ایک بنیادی دلیل بیان کی ہے کہ کس کا انذار کرنا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی صفات بیان کرو تم خدا کے نام کی عظمت کو قائم کرو اس کی کبریائی کو قائم کرو یہی اس کی صفات ہیں۔وَثِيَابَكَ فَطَرُ میں طھر کے ایک معنی صفائی کے ہیں۔وَثِيَابَكَ فَطَرُ کے ایک معنی حضرت مصلح موعود نے کیسے ہیں۔اور اسی سے ملتے جلتے بعض دوسروں نے بھی کئے ہیں کہ جماعت کی تربیت کر۔تیرے ارد گرد جو لوگ آگئے ہیں ان کی تربیت کر۔ه وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ الرُّجْزَ کے معنی ذنب (گناہ) بھی ہیں اور بت پرستی بھی۔گویا فرمایا کہ شرک سے بچو۔شرک کے اصل معنی خدا سے دوری کے ہیں اور اسی کا نام گناہ ہے۔الرجز کے دوسرے معنی الذنب یعنی گناہ کے ہیں دراصل گناہ ہے ہی شرک کا نام اس کے علاوہ کسی اور چیز کا نام گناہ نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ خدا سے دوری گناہ ہے۔- وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۔پھر آنحضرت سالا ہی ہم سے یہ فرمایا کہ جس خدا نے تمہیں اتنا دیا ہے اس کے بدلہ میں تمہیں بھی احسان کرنا پڑے گا۔میں کہا کرتا ہوں کہ ساری دنیا کی گالیاں اور ظلم جو اسی سال سے ہم پر ہور ہے ہماری مسکراہٹوں کو بھی نہیں چھین سکے اور نہ ہم سے قوت احسان چھین سکے ہیں۔ہمارا بڑے سے بڑا دشمن اگر کسی کام کے لئے ہمارے پاس آتا ہے تو ہم اس کا کام مسکرا کر کر دیتے ہیں کیونکہ ہمیں خدا نے اتنا دیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہمارا یہ احساس ہے کہ ساری دنیا یعنی عالمین ہمارے لئے ہی ہیں۔تو فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم پر بڑا احسان کیا ہے تمہارے دماغ میں احسان کا بدلہ لینے کا خیال کبھی پیدا نہ ہو۔اور تمہیں جو ہدایتیں دی گئی ہیں ان کے او پر سختی سے قائم رہو، صبر سے کام لو۔وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ۔صبر کے بہت سے معنی ہیں۔ایک معنی شجاعت کے ہیں۔یعنی میدان جنگ میں قائم رہنا۔صبر کے ایک یہ بھی معنی ہیں کہ اگر کسی کا بچہ مر گیا ہے تو نہ رونا۔اسی طرح انسان کی زندگی میں صبر مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔تو فرمایا کہ اپنے رب کی خوشنودی حاصل