تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 69
تاریخ احمدیت۔جلد 27 69 سال 1971ء کرنے کے لئے صبر کی راہوں کو اختیار کرو۔سی سات صفات مظلومیت سے کامل محسن بننے تک کے راستے کے نشان ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سات گر سمجھاتا ہوں ان پر عمل کرو اور جتنی تمہاری طاقت ہے اس کے مطابق تیاری کرو “ پھر حضور انور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ مجھے اور آپ کو یہ بشارت دیتا ہے کہ جتنی تمہاری طاقت ہے اس کے مطابق جب تم تیاری کر لو گے اسلام کو غالب کرنے کے لئے۔اس طاقت کے علاوہ اس سے زیادہ ہزار کروڑ ، ارب بلکہ کھرب گنا جس قدر طاقت کی ضرورت ہوگی وہ میں تمہیں دوں گا۔اب پھر آسمانوں پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ اسلام از سر نو اسی شان و شوکت اور اسی تر و تازگی کے ساتھ دنیا میں دیکھا جائے گا اور پہلے زمانہ کی طرح دنیا پر پھر احسان کرے گا۔یہ آسمانوں کا فیصلہ ہے زمینی طاقتیں اسے نہیں روک سکتیں۔لیکن آسمان کا یہ فیصلہ مجھ پر اور آپ پر بہت سارے فرائض بھی عائد کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ نے نشان دے دیئے ہوئے ہیں۔Arrows لگے ہوئے ہیں کہ یہ راستہ ہے تمہارے محسنِ کامل کا۔یہ سات نشان یا Arrows ہیں جو نشاندہی کر رہے ہیں کہ ان راستوں پر چلو اور یہ صفات اپنے اندر پیدا کرو تو پھر خدا تعالیٰ تمہارے کمزور اور مظلوم ہونے کے باوجود تمہیں ظالم ہونے سے بھی بچائے گا اور محسنِ کامل بھی بنادے گا۔تو آج کی نسل پر یعنی خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ۔یعنی جو اس وقت سات سال سے لے کر چالیس سال تک کے ہیں اس نسل پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔اس وقت افق انسانیت پر غلبہ اسلام کی شعاعیں تیز نگاہیں رکھنے والوں کو نظر آ رہی ہیں اور جن کی نگاہیں کمزور ہیں وہ آج نہیں تو کل دیکھ لیں گے لیکن ہمارے اوپر جو ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں ان کے مطابق ہمیں ہر وقت دینی ، اخلاقی ، ذہنی اور علمی لحاظ سے چوکس رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری حقیر کوششیں کامیاب ہوں اور یہ نسل خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو ہم 66 سے زیادہ حاصل کرے کم حاصل نہ کرے۔“ حضرت خلیفہ امسیح الثالث کا اختتامی خطاب حضور انور نے اجتماع کے آخری روز مورخہ ۱۰ / اکتوبر نماز ظہر وعصر کے بعد خدام کو اپنے