تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 67 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 67

تاریخ احمدیت۔جلد 27 67 سال 1971ء مصروفیات اور مومنانہ نظم وضبط کے پاکیزہ ماحول میں جاری رہا۔اس اجتماع میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خدام کو اپنے انتظامی و انتقامی خطابات سے نوازا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا افتتاحی خطاب اجتماع کے افتتاحی خطاب میں حضور انور نے سورۃ فاتحہ اور سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرنے کے بعد خدام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم ایک شریعت کی شکل میں انسان کی طرف بھیجا گیا ہے اور یہ ایسے احکام پر مشتمل ہے جن پر عمل کرنا دینی اور دنیوی ترقی کے لئے ضروری تھا۔قرآن کریم کی شریعت پر عمل کر کے ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہے نقصان کا کوئی پہلوغور کرنے والے کے سامنے نہیں آتا۔قرآن کریم کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو ظاہر کرنے کے لئے حکم آنحضرت صلی ہی تم کو ہوتا ہے۔بلکہ سارے احکام کے پہلے اور حقیقی مخاطب تو آنحضرت سلایا کہ تم ہیں۔ان آیات قرآنی کی جن کی میں نے سورۃ فاتحہ کے بعد ابھی تلاوت کی ہے ان میں آنحضرت صلی یہ تم کو سات حکم دیئے گئے ہیں یا ایک اور طرز پر ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی یتیم کی سات صفات بیان کی گئی ہیں۔ہر نسل کے اندر یہ سات صفات پیدا ہونی چاہئیں اور ان کا خوگر اور عادی ہونا چاہئیے کہ وہ اس قسم کے اعمال بجالائیں۔- يَا يُّهَا الْمُدَّثِرُ میں یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ ہر کام کے لئے تیاری کرنی پڑتی ہے اسی لئے آنحضرت صلی ای ایم نے فرمایا کہ بچے کو دس سال تک نماز کے لئے ذہنی طور پر تیار کرو اور دس سال کے بعد عملی طور پر اس کی تربیت کرو۔(الف) المدثر کے ایک معنی ڈیوٹی کے لباس میں ملبوس کے ہیں اور مومن اور مسلمان کی ڈیوٹی کا لباس تقویٰ ہے۔(ب) مدثر کے دوسرے معنی ہیں گھوڑے پر سوار اور حکم کا منتظر، گویا کہ مدثر وہ ہے کہ اس کے حکم سننے اور عمل کرنے کے درمیان کوئی توقف نہ ہو۔نبی کریم صلی ایتم کی یہ شان تھی کہ ادھر اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوا ادھر اس پر عمل شروع ہو جا تا تھا۔آپ کے ماننے والے کی بھی یہی شان ہونی چاہیئے۔٢ - قُمْ فَانْذِرُ۔قام کے معنی کھڑے ہونے کے بھی ہیں، عزم کے بھی ہیں اور حفاظت کے بھی ہیں۔تو آیت کے معنی ہوں گئے دنیا کی حفاظت کے لئے پورے عزم کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور دنیا کو ڈراؤ انذار یہ ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میرا بندہ مدثر بنے اور میرے حکم پر لبیک کہنے والا ہو اور اپنے عمل سے میری محبت ، میرے پیار اور میرے تعلق کا اظہار کرنے والا ہو۔سو تم عزم کے