تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 66 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 66

تاریخ احمدیت۔جلد 27 66 سال 1971ء اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتادیا کہ قرآنی اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے لائبریریوں کے قیام کی غرض مومنوں کے نزدیک صرف یہ ہونی چاہیے کہ دنیا میں قرآن کریم کے علوم پھیلیں اور محفوظ ہوں اور اس طرح ابدی اور دائی صداقتیں دنیا میں ہمیشہ قائم رہیں۔قرآن کریم کی تفسیر کیلئے جو کتب بھی لکھی جائیں یا جو کتب تفسیر میں محمد ہوں وہ سب ہماری لائبریری میں موجود ہونی چاہئیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام ارشادات ہیں جو احادیث کے رنگ میں موجود ہیں وہ بھی قرآن کی تفسیر پر ہی مشتمل ہیں اسی طرح امت کے دوسرے مقربین الہی نے بھی جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں قرآن کے سیکھنے اور سکھانے میں ہی صرف کیں جو کتب لکھیں وہ بھی قرآن ہی کی تفسیر ہیں۔اس لئے وہ بھی فِیهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ میں شامل ہیں اور ہماری لائبریری میں محفوظ ہونی چاہئیں۔حضور نے فرما یا لائبریری کی یہ عمارت ہماری اجتماعی قربانی کا نتیجہ ہے اب ہمیں انفرادی طور پر بھی قرآنی اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے اس لائبریری کے لئے زیادہ سے زیادہ ایسی کتب مہیا کرنی چاہئیں جو کسی نہ کسی رنگ میں قرآنی علوم کی اشاعت میں مد ومعاون ہوں۔حضور نے فرمایا میں افراد سے یہ کہوں گا کہ آپ بہت سی ایسی کتب خریدتے ہیں جنہیں ایک دفعہ پڑھ کر پھر آپ کی اس میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے اور وہ ادھر اُدھر پڑی ضائع ہو جاتی ہیں۔آپ کو چاہیے کہ ایسی تمام کتب آپ اپنی اس مرکزی لائبریری کو بھجوا دیا کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس طریق سے ہر سال ہماری اس لائبریری میں کم و بیش ایک لاکھ کتب کا اضافہ ہو سکتا ہے جس کا ثواب مفت میں ان لوگوں کو ملتا رہے گا جنہوں نے وہ کتب بھجوائی ہوں گی۔آخر میں حضور نے فرمایا کہ یہ عمارت تو ابھی ایک ابتدا ہے ایک درخت ہے جو لگایا گیا ہے اس پر پھل لگنے ابھی باقی ہیں۔ابھی بہت سے کام ہیں جو اس کے تعلق میں ہونے باقی ہیں۔ہمیں ایسے لوگوں کی بھی شدید ضرورت ہے جو ریسرچ اور تحقیق کی طرف متوجہ ہوں اور اس لائبریری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی علمی رنگ میں جماعت کی خدمت کریں۔68 سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ مرکزیہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا انتیسواں سالانہ اجتماع تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی جنوبی جانب باسکٹ بال سے متصل میدان میں مورخہ ۸ ،۹، ۱۰ / اکتوبر ۱۹۷۱ء منعقد ہوا۔اس اجتماع میں پاکستان بھر کی ۴۲۸ مجالس کے ۳۱۰۲ خدام نے شرکت کی۔یہ اجتماع تین دن تک ذکر الہی ، علمی و دینی