تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 65
تاریخ احمدیت۔جلد 27 65 سال 1971ء کو پاکستان میں رہنے کا بہت کم وقت ملتا ہے لیکن اس عرصہ میں جب بھی آپ ربوہ تشریف لائے بڑی فکرمندی کے ساتھ جلد سے جلد کام کی تکمیل کے لئے تو جہ دلاتے رہے اور فاؤنڈیشن کے نائب صدر محترم کرنل محمد عطاء اللہ صاحب نے تو میرے علم اور ذاتی اطلاع کی بناء پر اپنے مکان اور دفاتر کی تعمیر کے لئے ایسا انہماک نہیں دکھایا جس قدر انہماک سلسلہ کی اس عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں دکھایا۔ہر کام، ہر تفصیل، ہر چیز جو عمارت کے سلسلہ میں ضروری تھی اس کے متعلق پوری چھان بین کرتے رہے ان کے اس طریق کار سے اس عمارت کی تکمیل میں گرانقدر امداد ملی۔فاؤنڈیشن کے دفتر کے کارکنوں نے بھی اس سلسلہ میں اپنے فرائض بڑی مندی سے انجام دیئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا خطاب 67- سپاسنامہ کے بعد سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے وقت کی قلت کے باوجود ایک نہایت پر معارف اور ایمان افروز تقریر فرمائی۔حضور نے فرمایا جس وقت فضل عمر فاؤنڈیشن نے لائبریری کی اس عمارت کی تجویز سوچی تھی اس وقت ہمیں یہ ایک بڑا منصوبہ نظر آتا تھا۔ہم اس وقت بھی خوش تھے اور آج اس منصوبہ کی تکمیل پر بھی خوش ہیں لیکن اس وقت ہماری آنکھ نے جس منصو بہ کو بڑا سمجھا تھا آج ہماری آنکھ اسے چھوٹا پارہی ہے اور ہم یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ہمیں تو لائبریری کی ایک ایسی عمارت کی ضرورت ہے جس میں کم و بیش پانچ لاکھ کتب رکھی جاسکیں لیکن بہر حال یہ ضرورت کا احساس ہے اسے پورا کرنے کے سامان انشاء اللہ وقت آنے پر اللہ تعالیٰ خود فرمائے گا لیکن اس کے لئے ابھی سے ہمیں اس عمارت کے پیچھے جو زمین ہے اسے لائبریری کے لئے وقف رکھنا چاہیے۔حضور نے فرما یا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک ماڈل لائبریری کا ذکر کیا ہے اور وہ ماڈل لائبریری خود قرآن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کتاب (قرآن مجید ) ایک ایسی کتاب ہے کہ فِيْهَا كُتُبُ قَيَّمَةٌ ( البينة : ٤ ) یعنی یہ قائم رہنے والی کتب کا مجموعہ ہے۔اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قرآن کریم سے پہلے جو کتابیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں ان میں جتنی ابدی صداقتیں تھیں وہ سب کی سب قرآن کے ذریعے قائم کر دی گئی ہیں اور قرآن میں تمام دائمی اور ابدی صداقتوں کو محفوظ رکھنے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔گویا روحانی اور معنوی رنگ میں قرآن ایک بہترین لائبریری ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لی ہے۔سینکڑوں ہزاروں کتب بلکہ بڑے سے بڑے کتب خانوں کا نچوڑ اس میں موجود ہے اور فِيهَا كُتُبُ قَيَّمَةٌ کہہ کر