تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 50 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 50

تاریخ احمدیت۔جلد 27 50 سال 1971ء غالب آنا ہے اور اس کے تمام مسائل کو حل کرنا ہے اور ہم نے اپنے عملی نمونہ اور اپنی قربانیوں کے ذریعہ اس غلبہ کے دن کونز د یک سے نزدیک تر لانا ہے۔2 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا سفر اسلام آباد ومری مورخہ ۲۰ جون کو صبح چھ بجے حضرت خلیفہ المسیح الثالث بیگم صاحبہ کے ہمراہ اسلام آباد کے لئے عازم سفر ہوئے اور ۲۲ جون کو مری بلز کی طرف تشریف لے گئے۔تقریباً ۲ ہفتہ قیام کے بعد مورخہ ۵ جولائی کو حضور رات ساڑھے آٹھ بجے بذریعہ کار مری ہلز سے واپس ربوہ تشریف لے آئے۔حضور کے ہمراہ حضرت بیگم صاحبہ اور دیگر اراکین قافلہ بھی واپس تشریف لے آئے۔53 فلپائنی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احمد یہ مشنوں کا پرزور احتجاج ۱۹۷۱ء میں فلپائن میں مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنا کر ان پر عرصہ حیات تنگ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔فلپائنی مسلمانوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ عیسائیوں کے خلاف غنڈہ گردی کے مرتکب ہوتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں جبکہ حقائق اس کے سراسر برعکس تھے۔فلپائنی عیسائیوں کی دہشت پسند تنظیم ”الاگا نے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کی نہایت منظم کوششیں شروع کیں۔فلپائن میں مسلمانوں کا قتل عام تو اگر چہ پہلے ہی ہورہا تھا لیکن 19 جون ۱۹۷۱ء سے مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ از سر نو شروع کر دیا گیا۔19 جون کو صوبہ کا ٹا باٹو کی میونسپل کمیٹی کارمن کے نواحی گاؤں مانیلی میں علی الصبح کرائے کے مسیحی فوجیوں نے فلپائن کے فوجی افسروں کے ہمراہ بستی کے مسلمانوں کو ایک مسجد میں اکٹھا کر لیا۔انہیں صرف یہ بتایا گیا کہ علاقہ میں امن و امان قائم کرنے کے لئے کا نفرنس کی جارہی ہے۔جب مسجد میں تقریباً ایک سو پچاس مسلمان جمع ہو گئے تو مسجد کی ناکہ بندی کر دی گئی پھر دستی بم پھینکے گئے اور بموں سے ڈر کر باہر آنے والوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ان دستی بموں اور گولیوں کی بوچھاڑ سے ۶۴ مرد، عورتیں اور بچے مسجد کے اندر ہی تڑپ تڑپ کر مر گئے اسی روز ایک قریبی پبلک سکول پر بھی دستی بم پھینکے گئے۔جس کے نتیجہ میں بہت سے بچے ہلاک ہو گئے۔اس کے علاوہ لوٹ مار ، آتش زنی اور قتل و غارت گری کے انتہائی اندوہناک واقعات رونما ہوئے۔