تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد 27 49 سال 1971ء مجلس خدام الاحمدیہ کی اٹھارہویں سالانہ تربیتی کلاس کی اختتامی تقریب میں طلباء سے بصیرت افروز خطاب فرمایا۔اس تربیتی کلاس میں ۲۶۵ مجالس کے ۴۳۴ خدام شامل ہوئے۔کلاس کے اختتام پر طلباء کا امتحان لیا گیا جس میں ۲۴۹ طلباء شامل ہوئے اور ان میں سے ۲۳۶ کامیاب قرار پائے۔حضور کی خدمت میں یہ اعداد و شمار رکھے گئے تو حضور نے ان پر خوشنودی کا اظہار فرمایا مگر ساتھ ہی فرمایا کہ جن مجالس کے نمائندے اس کلاس میں شامل نہیں ہوئے انہیں توجہ دلائی جائے تا کہ آئندہ سو فیصد مجالس کی حاضری ہو۔اس کلاس کا افتتاح ۲۸ مئی کو مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم سابق رئيس التبليغ غانا نے فرمایا تھا۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے کلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تاریخ اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ اسلام ہر زمانہ میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا ہے اس میں شک نہیں کہ درمیان میں کچھ وقت ایسا بھی آیا جبکہ مجاہدینِ اسلام کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز میں مدہم پڑ گئیں لیکن یہ محض ایک عارضی وقفہ تھا۔اور یہ وقفہ بھی بجائے خود صداقت اسلام کی ایک دلیل ہے کیونکہ یہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق ظہور میں آیا۔مگر بہر حال بحیثیت مجموعی اگر دیکھا جائے تو تاریخ اسلام یہی بتاتی ہے کہ اسلام ہر زمانہ اور ہر دور میں ترقی کرتا رہا۔حتی کہ بظاہر تنزل کے زمانہ میں بھی وہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے قلوب کو جیتا رہا۔حضور نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک انقلابی مذہب ہے وہ دنیا میں رونما ہونے والے لحظہ بہ لحظہ انقلاب اور تغیر کے باوجود ہر زمانہ اور ہر دور میں انسان کی مکمل راہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک نام کتاب مکنون بھی ہے اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ حالات جو آج ظاہر نہیں ہوئے اور وہ الجھنیں جو آج پردہ میں ہیں اور کل کو ظاہر ہونے والی ہیں ان سب کا علاج اور حل تا قیامت اس کتاب میں موجود ہے اور وہ حل ایسا ہو گا جو قلوب کو مطمئن کرنے والا ہوگا۔حضور نے مثالیں دے کر واضح فرمایا کہ آج جو تحریکیں موجودہ زمانہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اٹھی ہیں وہ اپنے مقصد میں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی تائید وراہنمائی حاصل نہیں۔یہ تائید و نصرت صرف اسلام ہی کو حاصل ہے اس لئے وہی ان مسائل کو حل کر سکتا ہے۔آخر میں حضور نے فرما یا احمدیت کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں غلبہ اسلام ہی کے لئے قائم کیا ہے۔اس لئے ہر احمدی بچے اور ہر احمدی نو جوان کے دل میں یہ احساس ہمیشہ غالب اور زندہ رہنا چاہیے کہ اسلام نے ہی دنیا پر