تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 24
تاریخ احمدیت۔جلد 27 24 سال 1971ء ذکر کیا کہ ان کی ریاست میں کل ۲۹ ثانوی سکول ہیں جن میں سے ۱۶ پرائیویٹ اداروں کی طرف سے کھولے گئے ہیں۔یہ کہ احمد یہ مشن وہ پہلا مسلمان ادارہ ہے جو ان کی ریاست میں ثانوی سکول کھول رہا ہے۔انہوں نے ابتدائی مشکلات پر صبر و استقلال کے ساتھ قابو پانے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔آخر میں خاکسار نے اپنی تقریر میں طلباء کو خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ علم کا سر چشمہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔سچا اور صحیح علم اسی کی طرف سے آتا اور اسی ہستی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جتنے بڑے بڑے سائنسدان اور ماہرین علوم ہوئے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکے۔اس امر کی دلیل کہ علم واقعی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی آتا ہے یہ ہے کہ شروع شروع میں تمام علوم صنعت و حرفت بلکہ اشیاء کے نام اور زبان کے قواعد تک خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست بذریعہ انبیاء دنیا کو سکھائے گئے۔بعد میں جب انسانی دماغ نے ترقی کی تو براہ راست راہنمائی کی ضرورت نہ رہی بلکہ وحی خفی کے ذریعہ انسان کی راہنمائی کی جاتی رہی۔جیسا کہ بہت سی اہم ایجادات اور سائنسی انکشافات حادثاتی طور پر انسان پر ظاہر ہوئے جن کے پس پردہ ایک مدبر بالا رادہ ہستی کے وجود کا پتہ چلتا ہے اور آخر میں قرآن کریم کی کامل اور آخری وحی کے ذریعہ انسان کو آئندہ ظاہر ہونے والے علوم بتلائے گئے جن میں سے کچھ تو ظہور میں آچکے ہیں اور کئی ایک ابھی تک سر بستہ راز ہیں جو آئندہ اپنے اپنے وقتوں پر ظاہر ہوں گے۔اس لئے علم کے میدان میں صحیح راہنمائی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس سر چشمہ علوم کی طرف رجوع کیا جائے اور اس کے ساتھ تعلق بڑھایا جائے۔اس تقریر کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاضرین پر نہایت عمدہ اثر ہوا جس کا پتہ ان تاثرت سے چلتا ہے جو بعد میں کئی ایک دوستوں نے اپنے اپنے رنگ میں بیان کئے۔تقریب کے اختتام سے پہلے نائیجیریا کا قومی ترانہ طلباء اور طالبات نے اکٹھے کھڑے ہو کر گایا جس کے بعد صاحب صدر کے ارشاد پر خاکسار نے خاموش دعا کروائی اور اس طرح پر یہ مبارک تقریب نہایت خیر و خوبی کے ساتھ انجام پذیر ہوئی۔اس دن کا دو پہر کا کھانا پرنسپل صاحب کی طرف سے آنریبل کمشنر کو پیش کیا گیا تھا۔چنانچہ وہ اور ان کے مستقل سیکرٹری وقت معینہ پر تشریف لائے۔کھانا ایک پاکستانی دوست نے اپنے گھر پر تیار