تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 23
سال 1971ء تاریخ احمدیت۔جلد 27 23 چند پونڈ سے بلکہ بعض صورتوں میں بلا قیمت کروا لئے۔مشروبات کا انتظام مقامی طور پر اور اشیاء خوردنی از قسم بسکٹ، کیک وغیرہ کا کانو سے کیا گیا۔خاکسار افتتاح میں شمولیت کی غرض سے لیگوس سے کا نو اور وہاں سے برادرم ثاقب صاحب اور مقامی مبلغ معلم ابراہیم بچی کی معیت میں گساؤ پہنچا۔نائیجیر یا جماعت کے جنرل سیکرٹری برادرم احمد رفاعی اوٹو لے بھی خاکسار کے ہمراہ تھے۔مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب جو پاکستان جانے کی تیاری میں مصروف تھے خود تو شامل نہ ہو سکے مگر انہوں نے اپنی وین سفر کے لئے پیش کر دی۔سکوٹو سے برادرم عبدالمجید صاحب بھٹی اور چوہدری حمید احمد صاحب بھی پہنچ گئے۔گساؤ میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ کمشنر صاحب تعلیم اپنے مستقل سیکرٹری جناب الحاجی محمد بیلو کے ساتھ رات کو ہی پہنچ چکے ہیں۔دوسرے دن ساڑھے دس بجے کا وقت افتتاح کے لئے مقرر تھا۔طلباء، طالبات اور ان کے والدین کے علاوہ شہر کا معزز طبقہ اچھی خاصی تعداد میں موجود تھا۔سیکنڈری سکولوں کے اساتذہ اور پرنسپل، سرکاری محکموں کے حکام، عیسائی اداروں کے سر براہ سبھی آئے ہوئے تھے۔سارکن کوڈ والحاجی سلیمان اپنے تیس سرداروں کے ساتھ آیا ہوا تھا۔سلطان آف سکوٹو خود تو نہ آ سکے مگر انہوں نے اپنی کونسل کے ایک ممبر کو جو اتفاق سے ان کا اپنا صاحبزادہ ہی ہے اپنی نمائندگی کرنے کے لئے بھجوایا۔اسی طرح مسٹر انگولو پرنسپل سکول آف بیسک سٹڈیز احمد و بیلو یو نیورسٹی زار یہ بھی شامل ہوئے۔افتتاح کی تقریب کمشنر صاحب تعلیم جناب الحاجی ابراہیم گساؤ کی صدارت میں تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوئی جو سکول کے ایک طالب علم نے کی۔اس کے بعد سکول کے ایک ٹیچر نے معزز مہمانوں کا تعارف کرایا۔ایک اور طالب علم نے سورۃ فاتحہ اور مسنون دعائیں دہرائیں۔چارط نے مختلف موضوعات پر مقالے پڑھے جن میں سے ایک طالبہ مس ذکرت بشیر کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔اس انعامی مقابلے کے بعد پرنسپل سکول برادرم محمد اسمعیل صاحب وسیم نے آنریبل کمشنر کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا جس میں بتایا کہ یہ سکول حضرت امام جماعت احمدیہ کی اعلان فرمودہ نصرت جہاں سکیم کے ماتحت کھلنے والے سکولوں میں سے پہلا سکول ہے۔سکول کی غرض و غایت، موجودہ صورتِ حال، مستقبل کا پروگرام اور ابتداء میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے تعاون کی اپیل کی۔ایڈریس کے جواب میں آنریبل کمشنر نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایک مسلمان ادارہ تعلیمی میدان میں ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے آگے آیا ہے۔انہوں نے طلباء