تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 22 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 22

تاریخ احمدیت۔جلد 27 22 سال 1971ء سٹاف کی ضرورت پوری ہوگئی۔خاکسار نے انہیں لکھا کہ دوسرا سیکشن جاری کرنے کے لئے ایک اور داخلے کا امتحان منعقد کیا جائے جس کے نتیجہ میں اب کافی تعداد میں طلباء اور طالبات مل گئیں۔ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہمارے سکول کی شہرت اب مسلمان والدین اور طلبہ میں اچھی خاصی دلچسپی پیدا کرنے لگی۔اور تعلیم کا بھیانک تصور جو عیسائی اداروں کی وجہ سے ان کے دلوں میں موجود تھا اب آہستہ آہستہ دور ہونے لگا۔لڑکیوں کا لباس جو پاکستانی لباس کی طرز پر آستینوں والی قمیص ،شلوار اور دوپٹہ پر مشتمل تجویز کیا گیا تھا مسلمان گھرانوں میں اکثر موضوع بحث بن چکا تھا یہاں تک کہ خود عیسائی والدین بھی اسے بنظر تحسین دیکھنے لگے۔ایک اخبار نویس نے اس لباس کا فوٹو دیتے وقت اسے ”حیا کا بہترین نمونہ قرار دیا۔مغربی تعلیم اور بالخصوص عیسائی سکولوں میں دی جانے والی مغربی تعلیم کا خوفناک تصور دور کرنے کے لئے ابھی کچھ اور کوشش کی ضرورت تھی۔اس غرض کے لئے خاکسار نے سکول کی افتتاحی تقریب منعقد کئے جانے کی تجویز کی۔برادرم وسیم صاحب نے اس سے پوری طرح اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلہ میں کوشش شروع کر دی۔طلباء اور طالبات کی یونیفارم تیار کروائی گئیں۔قرآن کریم اور حدیث میں سے دعائیں یاد کروائی گئیں بلکہ صبح کی اسمبلی میں سورۃ فاتحہ اور مسنون دعائیں روزانہ باقاعدگی سے دہرائی جاتی ہیں۔طلبہ کو تقریروں کی مشق کرائی گئی۔ان کے لکھنے پر کہ وہ اب افتتاح کے لئے تیار ہیں خاکسار نے ۸ جولائی کی تاریخ مقرر کر کے انہیں افسرانِ بالا سے رابطہ پیدا کرنے کی ہدایت کی۔چنانچہ برادرم وسیم صاحب سکوٹو جا کر سیکرٹری ملٹری گورنمنٹ جناب الحاجی عبد اللہ کورے محمداور کمشنر تعلیم جناب الحاجی ابراہیم گساؤ سے ملے۔مؤخر الذکر نے افتتاح کی صدارت کو بخوشی قبول کر لیا۔مقامی طور پر گساؤ کے چیف جو سارکن کوڈ وSarkin Kudu (رئیس قطر جنوبی ) کے نام سے مشہور ہیں اور دیگر حکومت کے افسران سے رابطہ پیدا کیا گیا۔دعوت نامے چھپوا کر کم و بیش پانچ صد افراد میں تقسیم کئے گئے۔افتتاح کے دن سکول کی عارضی عمارت کو جو انصار الدین سوسائٹی کے پرائمری سکول کا حصہ ہے رنگین جھنڈیوں اور قطعات سے مزین کیا گیا۔پنڈال میں بارش اور دھوپ کے ڈر سے تر پال لگوا کر ان سے شامیانوں کا کام لیا گیا جو از خود ایک اچھا خاصا کام تھا خصوصاً اس صورت میں کہ یہاں شامیانوں کا رواج نہیں۔چونکہ یہ سب چیزیں مقامی لوگوں کے لئے نئی بلکہ عجوہ تھیں اس لئے اکثر کام وسیم صاحب کو خود ہی کرنے پڑے اور حکومت جو کام سینکڑوں پونڈ خرچ کر کے کرتی ہے وہ انہوں نے