تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 21
تاریخ احمدیت۔جلد 27 21 سال 1971ء میں ہر ممکن کوشش کی بلکہ گساؤ میں ایک ایسے دوست کا پتہ دیا جو سکول کے اجراء کے لئے تمام ابتدائی مراحل طے کرنے میں بہت مفید ثابت ہوئے چنانچہ پہلا داخلے کا امتحان انہی کی وساطت اور انتظام سے انجام پایا۔اسی طرح سکول کے لئے عارضی عمارت کے حصول میں کامیابی بھی انہی کی مرہونِ منت ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔داخلے کے پہلے امتحان کے لئے خاکسار نومبر ۱۹۷۰ء میں کا نو سے گساؤ پہنچا۔بہت تھوڑے طلباء اس امتحان میں شامل ہوئے اور ان میں سے بہت کم داخلے کے قابل قرار پائے۔دوسرے داخلے کے امتحان کے لئے کانو سے برادرم رفیق احمد ثاقب صاحب پر نسپل فضل عمر احمد یہ سیکنڈری سکول کا نو اور سکوٹو سے برادرم عبدالمجید بھٹی صاحب پرنسپل احمد بیلواکیڈمی (Ahmadu Bello Academy) کو بھیجوایا گیا۔طلباء کے انٹرویو کے دوران ایک عجیب بات یہ دیکھنے میں آئی کہ طالبات کسی سوال کا جواب نہ دیتی تھیں جیسے ان کے مونہوں میں زبان ہی نہ ہو۔معلوم ہوا کہ ان کے والدین نے انہیں ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ انٹرویو کے وقت بالکل خاموش رہیں تا وہ سکول میں داخل نہ ہونے پائیں کیونکہ ان کے خیال میں لڑکیوں کا زیادہ تعلیم حاصل کرنا خطرناک ہے۔یہ خیال اس تلخ تجربے کی پیداوار ہے جو مسلمان والدین کو عیسائی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے نتیجہ میں حاصل ہوا کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہوئے تو یاوہ عیسائی ہو چکے تھے یا عیسائیت سے اتنا متاثر کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے میں عار محسوس کرتے تھے۔یہ کیفیت ابھی تک ملک بھر میں بلکہ سارے مغربی افریقہ میں قائم ہے۔اگر چہ اب مسلمانوں کی بیداری کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے۔ابھی تک ہمیں ایک کلاس کی تعداد کے برابر بمشکل طلباء ملے تھے تا ہم سکول جاری ہوسکتا تھا۔حکومت کی منظوری حاصل ہو چکی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ۱۵ مارچ ۱۹۷۱ء کو سکول کھلنے کا اعلان کر دیا گیا۔ادھر ایک مشکل یہ پیش آئی کہ منظور شدہ اساتذہ ابھی تک پاکستان سے نہیں پہنچنے پائے تھے۔یہ مشکل اللہ تعالیٰ نے یوں حل فرمائی کہ کا نوسیکنڈری سکول کا سٹاف پہلی ٹرم کی تعطیلات میں گساؤ میں آکر کام کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔چنانچہ پہلے برادرم رفیق احمد ثاقب صاحب وہاں پہنچے اور رہائش ، خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کی جملہ مشکلات کو بخوشی برداشت کرتے ہوئے کئی دن وہاں ٹھہرے۔اس کے بعد برادرم احتشام النبی صاحب ان کی جگہ پر پہنچ گئے۔ایک کلاس یعنی فارم ون (1 Form) جاری ہو چکی تھی۔اسی اثناء میں پاکستان سے برادرم محمد اسمعیل صاحب وسیم کے پہنچنے پر