تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 308 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 308

تاریخ احمدیت۔جلد 27 308 سال 1971ء نے جو اس وقت شہر کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے اس بات کا کھلے بندوں اعتراف کیا کہ ان کی نگاہیں اس وقت جماعت احمدیہ کی طرف لگی ہوئی ہیں اور یہ کہ وہاں مسلمانوں کی ۸۰ فیصد آبادی ہونے کے باوجود مسلمانوں کا ایک بھی سکول نہیں اور وہ سکول کے قیام کے سلسلے میں ہر قسم کی مالی امداد بہم پہنچانے کے لئے تیار ہیں۔مسٹر حسن نے بعد میں ہمیں بتایا کہ گذشتہ ایک جمعہ میں اوشو گبو کی مرکزی مسجد میں اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ جماعت احمدیہ کو وہاں سکول بنانے کی دعوت دی جائے۔خاکسار نے ان کی درخواست حضرت اقدس تک پہنچانے کا وعدہ کیا ( مجوزہ قطعہ زمین جو ۲۰ /۱ یکٹر کے قریب ہے اب باقاعدہ سروے ہو کر مشن کے نام منتقل کر دیئے جانے کی کوشش ہو رہی ہے ) ایجگہو میں جماعت کا قیام اوشو گبو سے روانہ ہو کر ہم ایک مقام Ede میں اپنی جماعت کے دوستوں اور شہر کے چیف (Timi of Ede) سے ملتے ہوئے ایک اور قصبہ ایگبو (Ejigbo) میں پہنچے۔یہاں غانا سے آئے ہوئے ایک احمدی دوست مسٹر Odeuale ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس دور افتادہ قصبہ میں بھی ایک چھوٹی سی جماعت پیدا ہو چکی ہے۔چنانچہ اس نواحمدی جماعت سے جو بیس کے قریب مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھی تعارف حاصل ہوا۔انہوں نے بھی خواہش ظاہر کی کہ یہاں مشن قائم کیا جائے کیونکہ کئی لوگ احمدیت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔خاکسار نے وہاں حاضر افراد کے سامنے احمدیت کی نمایاں خصوصیات پر ایک تقریر کی اور ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اس علاقہ میں جلد ہی ایک مبلغ بھجوانے کا وعدہ کیا۔بعد میں شہر کے اوبا (چیف) سے مل کر اپنا تعارف کراتے ہوئے ہم واپس ابادان روانہ ہوئے۔لیگوس پہنچنے کے معابعد خاکسار نے پہلا کام یہ کیا کہ مقامی مبلغین میں سے سب سے تجربہ کار مبلغ معلم جمال الدین باڈا کو اپنے علاقہ سے بلا کر ایک ماہ کے لئے Ikirun بھجوایا اور ا کیروں شہر کو ہیڈ کوارٹر بنا کر انہیں اوشو گبو، ایجگہو اور دیگر نواحی علاقوں میں تبلیغ کرنے اور جماعتیں قائم کرنے کی ہدایت دی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں میں برکت ڈالی اور تھوڑے عرصہ میں ہی ان تینوں مذکورہ بالا مقامات پر اچھی خاصی جماعتیں بن گئیں۔جس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ اکیروں میں گذشتہ عید الفطر کے موقع پر جماعت کی پہلی نماز عید پڑھی گئی جس میں مردوں، عورتوں اور بچوں کو ملا کر ۳۲ را فراد شامل ہوئے اس کے بعد سے جماعت وہاں مسلسل ترقی کر رہی ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے