تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 307 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 307

تاریخ احمدیت۔جلد 27 307 سال 1971ء جس توجہ اور دلچپسی سے یہ تقریریں سنیں اس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ تقریروں کے خاتمے پر کثرت سے سوالات ہوئے جن کا تسلی بخش جواب دیا گیا۔سوالات زیادہ تر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی نبوت سے متعلق تھے۔چونکہ خاکسار کی تقریر کا موضوع بھی مسئلہ ختم نبوت ہی تھا اس لئے مزید سوالات کے ذریعے اس کی خوب وضاحت ہوئی۔یہ جلسہ شام 4 بجے سے شروع ہو کر رات 11 بجے تک جاری رہا۔اوشو گبو میں جماعت کا قیام اور کالج کیلئے زمین کا عطیہ دوسرے دن علی الصبح یہ تبلیغی قافلہ اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوا جو ایک بہت بڑا قصبہ اوشو گبو Oshogbo کے نام سے مشہور ہے۔یہاں کسی وقت ایک احمدی نے مسجد کے لئے زمین لینے کی کوشش کی تھی اور یہ کوشش ایک حد تک کامیاب بھی ہو گئی اور اس کے نتیجے میں ایک مسجد بھی بن گئی مگر چونکہ اس وقت وہاں کوئی جماعت نہ تھی اس لئے اس میں زیادہ تر نماز پڑھنے والے لوگ غیر از جماعت ہی تھے اس لئے ان لوگوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور وہ اب تک انہیں کے قبضہ میں ہے۔اس کے بعد ایک اور احمدی دوست مسٹر محمد معیبی Mr۔Mohammad Muibi نے غانا سے آئے ہوئے ایک اور احمدی دوست مسٹر عبد العزیز کے ساتھ مل کر ایک مکان میں نمازیں پڑھنی شروع کر دیں۔تھوڑے عرصے کے بعد ایک اور دوست مسٹر بنکو لے Mr۔Bankole بھی ان میں شامل ہو گئے۔چنانچہ جس وقت ہمارا تبلیغی قافلہ اوشو گبو پہنچا تو جماعت انہیں دو تین شخصوں پر مشتمل تھی۔مسٹر معیبی جن کو ہم نے اپنے پہنچنے کی اطلاع پہلے سے دے رکھی تھی ہماری انتظار میں برلپ سڑک موجود تھے۔اسی طرح لیگوس کے ایک اور احمدی دوست مسٹر حسن سنمو نو جو دو جڑواں احمدی بھائیوں میں سے ایک ہیں اور اصل اوشو گبو کے رہنے والے ہیں وہ بھی اوشو گبو پہنچے ہوئے تھے۔(ان کا ذکر بعد میں آئے گا ) مسٹر معیبی نے ہمیں وہ مکان دکھایا جسے انہوں نے مسجد احمدیہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر رکھا تھا اور وہاں جلد تر مشن قائم کرنے کی درخواست کی۔خاکسار نے ایک مبلغ بھیجنے کا وعدہ کیا۔اوشو بو سے روانہ ہونے سے قبل مسٹر حسن جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ہمیں اپنے چا جو وہاں کے ایک رئیس ہیں، کے پاس لے گئے ان کے ساتھ مل کر ہم شہر کے چیف امام کے پاس گئے جنہوں نے دیگر مسلمان رؤساء کے مشورے سے ہمیں وہاں ایک سیکنڈری سکول قائم کرنے کی دعوت دی۔انہوں نے ہمیں وہ زمین بھی دکھائی جو وہ اس غرض کے لئے بلا معاوضہ دینے پر تیار تھے۔مسلمان معززین