تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 20
تاریخ احمدیت۔جلد 27 20 سال 1971ء پہنچائیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ نصرت جہاں سکیم کا آغاز نائیجیریا سے ہی ہوا تھا اور صرف ایک دن قبل حضور نے نائیجیریا جماعت کے نمائندگان کے سامنے سولہ ثانوی سکول کھولنے کا اعلان فرمایا تھا۔گورنر نے نہ صرف اس تجویز کا پر جوش خیر مقدم کیا بلکہ ہرممکن امداد بہم پہنچانے کا وعدہ کیا۔یہ حسن اتفاق ہے کہ گورنر عثمان فاروق برادرم وزیری عبد و صاحب کے ہم مکتب رہ چکے ہیں اور انہیں اچھی طرح جانتے ہیں چنانچہ حضرت اقدس کی موجودگی میں ہی رسمی طور پر ایک درخواست گورنمنٹ شمال مغربی ریاست کو بھجوا دی گئی جس میں حضرت اقدس کی طرف سے ان کی ریاست میں چار ثانوی سکول کھولنے کی پیشکش کی گئی۔یہ آغاز تھا اس عظیم الشان سکیم کا جواب سارے مغربی افریقہ میں تعلیمی وطبی مراکز قائم کرنے کی نمایاں خدمت انجام دے رہی ہے۔شمال مغربی ریاست جو قریباً سو فیصدی ہاؤسا اور فلانی مسلمان قبائل پر مشتمل ہے کا صدر مقام سکوٹو ہے جو قدیم اور تاریخی شہر ہونے کے علاوہ حضرت عثمان ڈان فو دیو جو اس علاقہ کے اٹھارہویں صدی کے مجد دگزرے ہیں، کا مدفن ہے۔گساؤ (Gusau) لیگوس سے ۷۵۰ میل شمال کی جانب اور سکوٹو سے ۱۳۰ میل جنوب کی جانب اس شاہراہ پر واقع ہے جو سکوٹو کونا یجیریا کے دوسرے بڑے شہروں سے ملاتی ہے۔سکوٹو بہت بڑا صنعتی مرکز ہونے کے علاوہ فضائی مستقر بھی ہے۔ثانوی سکول کے لئے کساؤ کا انتخاب کئی ایک اعتبار سے کیا گیا۔ایک تو یہ کہ سکوٹو جہاں پہلے ہی کافی سکول اور کالج موجود ہیں کے بعد یہ شمالی حصہ ریاست میں دوسرا بڑا قصبہ ہے۔دوسرے اب تک یہاں صرف ایک ثانوی سکول قائم تھا جو کیتھولک عیسائی مشن نے دو سال قبل کھولا تھا اور ضرورت تھی کہ مسلمان بچوں کو عیسائیت کے اثر سے پاک رکھنے کے لئے ہم وہاں کوشش کریں۔تیسرے مرکزی حکومت کے اقتصادی ترقیات کے کمشنر جناب الحاجی یحیی گساؤ یہیں کے رہنے والے ہیں جو ایک دیندار مسلمان ہونے کے علاوہ ہماری اسلامی خدمات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔سکول کی تجویز اپنے تمام عبوری مراحل سے گزرنے کے بعد منظوری کی آخری حدود تک پہنچ چکی تھی۔حکومت کی طرف سے چالیس ایکڑ کا قطعہ اراضی اس کے لئے مخصوص ہو چکا تھا۔حکومت کے افسران نے جس خوش اسلوبی اور خوش دلی سے جملہ کا رروائی سرانجام دی وہ قابل صد ستائش ہے۔چونکہ گساؤ میں ہماری کوئی جماعت نہ تھی نہ ہی کوئی اور واقفیت اس لئے سکوٹو میں برادرم عبدالمجید صاحب بھٹی کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے نہ صرف مقامی طور پر کاغذات کی تعمیل کے سلسلے