تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 293 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 293

تاریخ احمدیت۔جلد 27 293 سال 1971ء دیئے۔دونئی مساجد کا افتتاح کیا۔آپ ۳۰ دسمبر ۱۹۷۱ ء کو نیروبی سے کسوموں تشریف لے گئے۔۳۱ دسمبر کو آپ مٹاوا (Matawa) میں پہنچے یہاں ایک سال قبل مولوی منیر الدین احمد صاحب کے ذریعہ ایک نئی مخلص جماعت قائم ہوئی تھی اور جماعت کی اپنی ایک مسجد بھی ان دنوں زیر تعمیر تھی۔احباب جماعت نے مولوی صاحب کا پر جوش اور پر خلوص خیر مقدم کیا۔بہت سے عیسائی دوست بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے قبائلی طریق پر بگل بجا کر آپ کو خوش آمدید کہا۔مولوی صاحب نے پہلے پونے دو گھنٹے تک سواحیلی میں خطبہ جمعہ دیا جس میں اسلامی مساجد کی غرض و غایت ، موازنہ اسلام و عیسائیت اور اسلامی تعلیم کی برتری پر عمدہ رنگ میں روشنی ڈالی نیز مخصوص عیسائی عقائد کا از روئے بائبل ابطال کیا۔نماز جمعہ و عصر کے بعد سوا گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔آپ نے اچھوتے اور مؤثر انداز میں جوابات دیئے۔بعض پادری صاحبان اور سکولوں کے معزز اساتذہ نے آپ کا شکر یہ ادا کیا کہ انہیں اسلام کے بارے میں نہایت عمدہ معلومات پہنچائی گئی ہیں۔اس کامیاب تقریب میں حاضرین کی تعداد چار سو سے زیادہ تھی۔دس دوستوں نے سلسلہ احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔اگلے روز ۲ جنوری (۱۹۷۲ء) کو آپ نے جبروک (Jabruk) کی مسجد احمدیہ کا افتتاح کیا اور اپنی پر مغز اور پُر از معلومات تقریر کے پہلے حصہ میں آپ نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں ان کے مذہب کے طریق کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔اس تاریخی واقعہ کو بیان کرنے کے بعد آپ نے بائبل سے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی پیشگوئیوں کا ذکر کیا اور نہایت لطیف اور دلکش پیرائے میں ثابت کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مشن اور تعلیم صرف بنی اسرائیل تک محدود تھی اب صرف اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہوکر ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکتا ہے اور جامع اور کامل ہونے کے لحاظ سے اس کا دائرہ قیامت تک ممتد ہے۔آپ کی تقریر نہایت دلچسپی اور انہماک سے سنی گئی۔سامعین کی تعداد ساڑھے چارسو سے زائد تھی جن میں اس علاقہ کے چیف، سب چیف اور کینیا کی برسر اقتدار پارٹی کا نو (KANU) کا ایریا چیئر مین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان سب معززین نے اپنی مختصر تقاریر میں اسلام کے بارے میں احسن اور دلکش پیرایہ میں معلومات بہم پہنچانے پر مولوی صاحب کا شکر یہ ادا کیا۔چیف نے اپنی تقریر میں احمدیہ جماعت کی تبلیغی مساعی اور خانہ خدا کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کہ احمدی