تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 292
تاریخ احمدیت۔جلد 27 292 سال 1971ء بہت خوش اور متاثر ہوئے۔اس تقریب کی تصاویر اس ملک کے کثیر الاشاعت اخبار ڈیلی نیشن (Daily Nation) میں شائع ہوئیں۔109 ۵ اکتوبر کو نیروبی کے ایک بہت ہی مشہور و معروف لونگٹن (Lavington) چرچ کے انگریز پادری Rev۔John Myer صاحب نے ٹیلیفون کے ذریعے اسلام پر تقریر کرنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ تیس چالیس افراد کی ہماری ایک سوسائٹی ہے جس کے ممبران اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر تاحال ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں مل سکا جو کہ انگریزی میں اس موضوع پر تقریر کرے۔مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے دعوت کو قبول کر لیا چنانچہ ڈنر کے بعد پادری صاحب کے گھر کے بڑے کمرے میں رات کے سوا آٹھ بجے آپ نے اسلام کے موضوع پر تقریر کی۔حاضرین تیس کے قریب تھے جن میں سے صرف تین افریقن اور باقی سب یوروپین تھے۔حاضرین میں ڈاکٹر ز ، پروفیسر ز اور مجسٹریٹ بھی شامل تھے۔خدا کے فضل سے گھنٹہ بھر حاضرین نے نہایت توجہ سے آپ کے لیکچر کو نا بعد میں سوا گھنٹہ تک طرح طرح کے سوالات دریافت کئے جن کے جوابات آپ نے دیئے۔ایک موقع پر جب آپ نے مسیح علیہ السلام کی بن باپ پیدائش کے بارہ میں کہا کہ آجکل میڈیکل سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ بعض عورتیں جن میں مذکر و مؤنث دونوں خاصیتیں ہوتی ہیں خاص حالات میں بغیر مرد کے بچہ جن سکتی ہیں تو اس پر سامنے بیٹھے ہوئے انگریز ڈاکٹر کی بیوی نے آہستگی سے اپنے خاوند سے پوچھا کہ کیا یہ بات صحیح ہے؟ تو ڈاکٹر صاحب نے اسے جواب دیا کہ ”ہاں“۔یہ تقریب خدا کے فضل سے نہایت درجہ کامیاب رہی۔ایسے لگتا تھا کہ مجلس پر اسلام کا رعب چھایا ہوا ہے۔آخر میں پادری صاحب نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ کے حوصلے کی داد دیتا ہوں کہ آپ باوجود اس کے کہ اپنے مخالف عقیدہ رکھنے والوں میں گھرے ہوئے تھے پھر بھی روانی کے ساتھ بلا جھجک گفتگو کرتے چلے گئے۔مولوی صاحب نے شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ جب حق ہی کہنا ہے تو اس میں جھجنے کی کیا بات ہے اور یہ کہ ایسی مجالس میں ہم اکثر جاتے ہیں یہ کوئی نئی بات ہمارے لئے 110۔اس سال کے آخر میں کینیا مشن کی مساعی عروج پر پہنچ گئیں جب مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے صوبہ نیا نزا کا دس روزہ تبلیغی و تربیتی دورہ کیا جس کے دوران چار نہایت کامیاب پبلک لیکچر