تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 274 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 274

تاریخ احمدیت۔جلد 27 274 سال 1971ء اسی سال پہلے (Yele) میں شام کے ایک مخلص احمدی سید محمد ہدرج نے اپنے خرچ پر خدا کے گھر کی تعمیر شروع کی۔اس سال اس کی دیوار میں بھی مکمل ہو گئیں اور پھر جلد ہی اس پر چھت ڈال دی گئی۔دوران سال خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور پاکستانی اور مقامی مبلغین اور احباب جماعت کی کوششوں سے ۴۸۰ نفوس داخلِ احمدیت ہوئے اور دس مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔88 غانا ۱۹۷۰ء کے آخر میں ملک ہیضہ کی لپیٹ میں آگیا۔مولوی بشارت احمد صاحب بشیر امیر جماعت ہائے احمد یہ غانا و انچارج مشن نے جماعت احمدیہ کو تحریک کی کہ وہ ہیضہ کے ٹیکے لگوائیں اور ماہ جنوری ۱۹۷۱ ء میں ہر سوموار اور جمعرات کو روزے رکھیں اور ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے رہیں کہ وہ قادر وتوا نا خدا اپنے رحم کے جلوے دکھائے اور غانا کو اس مصیبت اور متعدی بیماری سے نجات دے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان ایام میں مساجد میں اکٹھے ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔89 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ہیضہ کی خبر سنتے ہی غانا کو دس ہزار افراد کے لئے ہیضہ سے بچانے والی دوا بھجوانے کا ارشاد فرمایا۔جملہ انتظامات ابھی تکمیل کے مراحل میں تھے کہ مولوی بشارت احمد صاحب کا تار آیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے و با پر کنٹرول پالیا گیا ہے۔غانا کی احمدی جماعتوں کی سالانہ کانفرنس ۶ تا ۸ جنوری کو سالٹ پانڈ میں منعقد ہوئی۔کانفرنس میں کم و بیش آٹھ ہزار اشخاص شامل ہوئے جن میں ملک کی متعدد نامور اور ممتاز شخصیات شامل تھیں۔جن میں پیرا ما فرنٹ چیفس ، متعددممبران پارلیمنٹ اور پاکستانی ہائی کمشنر غانا بھی شامل تھے۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا وہ خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جو حضور نے اس موقع کے لئے از راہ شفقت ارسال فرمایا۔اس پیغام میں حضور نے جماعت احمد یہ غانا کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ وہ اپنی مساعی کو تیز سے تیز تر کر دیں تا کہ ہم اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو سکیں۔کانفرنس کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی نیز ریڈیو سے بھی اس کی خبر نشر ہوئی۔جنرل اے اے افریفا (Akwasi Amankwaa Afrifa)۱۹۶۶ء کے انقلاب میں برسر اقتدار آئے تھے اور اگست ۱۹۶۹ ء تک غانا کے صدرر ہے۔انہوں نے کرو بو(Krobo) کے نام سے ایک جدید طرز کا شہر آباد کیا۔وہ ان دنوں لیفٹینٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے تاہم