تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 273
تاریخ احمدیت۔جلد 27 273 سال 1971ء بو کی مرکزی مسجد جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے اس کی بنیاد گذشتہ سال مئی ۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھی تھی اور اس کی تعمیر کا آغاز اس سال ہوا اور اس کی نگرانی مولوی منصور احمد صاحب بشیر انچارج مبلغ ہو اور مبارک احمد صاحب نذیر پرنسپل احمد یہ سیکنڈری سکول جو رونے کی اور سال کے آخر تک دیوار میں چھت تک پہنچ گئیں۔دو بار اجتماعی وقار عمل کئے گئے ایک میں مستورات کے لئے اوپر گیلری میں کنکریٹ ڈالی گئی۔یہ وقار عمل صبح سے رات دس بجے تک جاری رہا۔دوسرے میں برآمدہ کی چھت ڈالی گئی اور وقار عمل صبح سے شام تک کیا گیا۔خدا کے گھر کی تعمیر میں انور حسن صاحب پرنسپل بوسیکنڈری سکول اور سکول کے اساتذہ، مولوی بشیر احمد صاحب اختر پرنسپل بواجے بوسیکنڈری سکول ،مبلغین احمدیت ،احباب جماعت اور سکول کے طلباء نے اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مشرقی صوبہ کا مرکزی شہر کینما (Kenema) تجارتی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل اور ہیروں کی خرید و فروخت کا مرکز ہے۔اس شہر میں عرصہ سے جماعت احمد یہ قائم تھی لیکن بوجہ مخالفت کوئی مسجد تعمیر نہ ہوسکی اور نہ زمین ہی مل سکی مگر حضور کے دورہ سیرالیون کے بعد خدا تعالیٰ نے غیب سے سامان پیدا فرما دیا کہ اس موقع پر اس شہر کا ایک چیف احمدی ہو گیا۔اس چیف کی حضور اقدس سے بو میں ملاقات ہوئی جس کے بعد اس نے کینما میں ایک قطعہ زمین احمدیہ مشن کے نام ہبہ کر دیا جسے مخالفین نے بعض قانونی وجو ہات پیش کر کے واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ازاں بعد ایک اور قطعہ زمین پیش کیا جو برلب سڑک تھا اور جس میں کسی اور کا دخل نہیں تھا۔مولوی مقبول احمد صاحب ذبیح انچارج حلقہ کینما نے نقشہ بنوا کر کھدائی کا کام شروع کروادیا۔مخالفین نے پیرا ماؤنٹ چیف اور ڈسٹرکٹ آفیسرز کے ذریعہ تعمیر کو رکوانے کی کوشش کی مگر خدا تعالیٰ نے جماعت کی غیر معمولی تائید ونصرت فرمائی اور ڈسٹرکٹ آفیسر نے فیصلہ دیا کہ احمدیہ مشن کو اس قطعہ زمین پر مسجد بنانے کا پورا پوراحق ہے اور کوئی شخص اس ملک میں کسی کی آزادی مذہب کو چیلنج نہیں کر سکتا۔چنانچہ ۲۰ /اگست ۱۹۷۱ء کو مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری نے ایک تقریب میں دعاؤں کے ساتھ اس مسجد کی بنیا د رکھی۔اس تقریب میں ارد گرد کی احمدی جماعتوں کے احباب کثرت سے شریک ہوئے اور پیراماؤنٹ چیف جو پہلے مخالفین احمدیت کے ڈر سے مخالفت کر رہا تھا خود شامل ہوا اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا اور مولوی مقبول احمد صاحب ذبیح کی نگرانی میں اس خانہ خدا کی تکمیل ہوئی۔87